تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 8

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ اَجۡرٌ غَیۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ٪﴿۸﴾
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے ختم نہ کیا جانے والا اجر ہے۔ En
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے (ایسا) ثواب ہے جو ختم ہی نہ ہو
En
بیشک جو لوگ ایمان ﻻئیں اور بھلے کام کریں ان کے لیے نہ ختم ہونے واﻻ اجر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان کے اوصاف اور ان کی جزا کا ذکر فرمایا ہے: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے یعنی اس کتاب پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر کتاب مشتمل ہے اور ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی جو اخلاص للہ اور متابعت رسول کے جامع ہیں۔ ﴿لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ ان کے لیے (ختم) نہ ہونے والا اجر ہے۔ یعنی ان کے لیے اجر عظیم ہے جو کبھی منقطع ہو گا نہ ختم ہو گا بلکہ وہ ہمیشہ رہے گا اور ہر گھڑی بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ یہ اجر ہر قسم کی لذات و مشتہیات پر مشتمل ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما ذَكَرَ الكافرين؛ ذَكَرَ المؤمنين ووَصْفَهم وجزاءهم، فقال: {إن الذين آمنوا}: بهذا الكتاب وما اشتمل عليه ممَّا دعا إليه من الإيمان وصدَّقوا إيمانَهم بالأعمال الصالحة الجامعة للإخلاص والمتابعة، {لهم أجرٌ}؛ أي: عظيم {غيرُ ممنونٍ}؛ أي: غير مقطوع ولا نافذٍ، بل هو مستمرٌّ مدى الأوقات، متزايدٌ على الساعات، مشتملٌ على جميع اللذَّات والمشتَهَيات.