تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿مَنْعَمِلَصَالِحًا ﴾”جس نے نیک کام کیے۔“ عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہو۔ ﴿فَلِنَفْسِهٖ﴾ دنیا و آخرت میں اس کا ثواب اور فائدہ اسی کے لیے ہے ﴿وَمَنْاَسَآءَفَعَلَیْهَا ﴾”جس نے برے کام کیے ان کا ضرر اسی کو ہوگا۔“ دنیا و آخرت میں اس کا نقصان اور عذاب بھی وہی بھگتے گا۔ اس آیت کریمہ میں فعل خیر اور ترک شر کی ترغیب دی گئی ہے نیز اس میں ذکر کیا گیا ہے کہ اصحاب اعمال اپنے نیک اعمال سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور برے اعمال سے ان کو ضرر پہنچتا ہے۔ نیز یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ﴿وَمَارَبُّكَبِظَلَّامٍلِّلْعَبِیْدِ ﴾”اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔“ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا کہ ان پر ان کی برائیوں سے بڑھ کر عذاب مسلط کر دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{مَن عَمِلَ صالحاً}: وهو العملُ الذي أمر الله به ورسوله {فَلِنَفْسِهِ}: نفعه وثوابه في الدنيا والآخرة. {ومن أساء فعليها}: ضررُه وعقابُه في الدُّنيا والآخرة، وفي هذا حثٌّ على فعل الخير وترك الشرِّ، وانتفاعُ العاملين بأعمالهم الحسنةِ، وضررُهم بأعمالهم السيئةِ، وأنَّه لا تزِرُ وازرةٌ وِزْرَ أخرى. {وما ربُّك بظلام للعبيدِ}: فيحمِّلُ أحداً فوق سيئاتِهِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔