اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے پہلے طے ہو چکی تو ان کے درمیان ضرور فیصلہ کر دیا جاتا اور بلاشبہ وہ اس کے متعلق یقینا ایسے شک میں ہیں جو بے چین رکھنے والا ہے۔
En
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں
یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی، سو اس میں بھی اختلاف کیا گیا اور اگر (وه) بات نہ ہوتی (جو) آپ کے رب کی طرف سے پہلے ہی مقرر ہو چکی ہے۔ توان کے درمیان (کبھی کا) فیصلہ ہو چکا ہوتا، یہ لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَقَدْاٰتَیْنَامُوْسَىالْكِتٰبَ ﴾”اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو بھی کتاب عطا کی تھی“ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتاب عطا کی ہے۔ لوگوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو آپ کے ساتھ کر رہے ہیں۔ پس لوگوں نے اس کتاب کے بارے میں اختلاف کیا۔ ان میں سے کچھ لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئے، انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل کی اور اس سے مستفید ہوئے اور کچھ لوگوں نے اس کتاب کی تکذیب کی اور اس سے مستفید نہ ہو سکے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے حلم اور سابقہ فیصلے کی بنا پر ان پر عذاب کو ایک مدت مقررہ تک مؤخر نہ کرتا، جس سے یہ عذاب آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔ ﴿لَ٘قُ٘ضِیَبَیْنَهُمْ ﴾”تو ان کے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوتا“ جس سے اہل ایمان اور کفار کے درمیان فرق واضح ہو جاتا اور کافروں کو اسی حال میں ہلاک کر دیا جاتا کیونکہ ان کی ہلاکت کا سبب پورا ہو چکا تھا۔ ﴿وَاِنَّهُمْلَ٘فِیْشَكٍّمِّؔنْهُمُرِیْبٍ ﴾”اور یہ اس (قرآن) کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔“ شک نے ان کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے، جہاں وہ متزلزل ہو گئے ہیں۔ اس لیے انھوں نے اس کی تکذیب کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {ولقد آتَيْنا موسى الكتابَ}: كما آتَيْناك الكتابَ، فصنع به الناسُ ما صنعوا معك؛ اختلفوا فيه: فمنهم من آمنَ به واهتدى وانتفع، ومنهم من كذَّبه ولم ينتفِعْ به، وإنَّ الله تعالى لولا حِلْمُهُ وكلمتُهُ السابقة بتأخير العذاب إلى أجل مسمّى لا يتقدَّم عليه ولا يتأخر؛ {لَقُضِيَ بينهم}: بمجرَّد ما يتميَّز المؤمنون من الكافرين؛ بإهلاك الكافرين بالحال؛ لأنَّ سبب الهلاك قد وَجَبَ وحقَّ. {وإنَّهم لَفي شكٍّ منه مريبٍ}؛ أي: قد بلغ بهم إلى الريبِ الذي يُقْلِقُهم؛ فلذلك كذَّبوه وجحدوه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔