تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 35

وَ مَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا ۚ وَ مَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا ذُوۡحَظٍّ عَظِیۡمٍ ﴿۳۵﴾
اور یہ چیز نہیں دی جاتی مگر انھی کو جو صبر کریں اور یہ نہیں دی جاتی مگر اسی کو جو بہت بڑے نصیب والا ہے۔ En
اور یہ بات ان ہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو برداشت کرنے والے ہیں۔ اور ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں
En
اور یہ بات انہیں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کریں اور اسے سوائے بڑے نصیبے والوں کے کوئی نہیں پا سکتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَمَا یُلَقّٰىهَاۤ اور نہیں نصیب ہوتی یہ (صفت) یعنی اس خصلت حمیدہ کی توفیق نہیں دی جاتی ہے۔ ﴿اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں۔ جو اپنے نفس کو ان امور کا پابند بناتے ہیں، جنھیں ان کے نفس ناپسند کرتے ہیں اور انھیں ایسے امور پر عمل کرنے پر مجبور کرتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ نفس انسانی کی جبلت ہے کہ وہ برائی کا مقابلہ برائی اور عدم عفو سے کرتا ہے۔ تب وہ احسان کیوں کر کر سکتا ہے؟
جب انسان اپنے نفس کو صبر کا پابند بنالیتا ہے اور اپنے رب کی اطاعت کرتا ہے اور اس کے بے پایاں ثواب کو جانتا ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ اسی جیسا سلوک کرنا اسے کچھ فائدہ نہیں دے گا اور عداوت صرف شدت ہی میں اضافے کا باعث ہو گی اور یہ بھی علم ہے کہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے اس کی قدرومنزلت کم نہیں ہو گی، بلکہ جو اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے رفعت عطا کرتا ہے، تب معاملہ اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے اور وہ اس فعل کو سرانجام دیتے ہوئے لذت محسوس کرتا ہے۔
﴿وَمَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ اور یہ مقام انھی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں۔ یہ خاص لوگوں کی خصلت ہے جس کے ذریعے سے بندے کو دنیا و آخرت میں رفعت عطا ہوتی ہے اور یہ مکارم اخلاق میں سب سے بڑی خصلت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما يُلَقَّاها}؛ أي: وما يوفَّق لهذه الخصلة الحميدة {إلاَّ الذين} صَبَّرُوا نفوسَهم على ما تكره، وأجبروها على ما يحبُّه الله؛ فإنَّ النفوس مجبولةٌ على مقابلة المسيء بإساءتِهِ، وعدم العفو عنه؛ فكيف بالإحسان؛ فإذا صبَّر الإنسان نفسَه وامتثل أمر ربِّه وعرف جزيلَ الثواب وعلمَ أنَّ مقابلته للمسيء بجنس عمله لا يفيده شيئاً ولا يزيدُ العداوة إلاَّ شدة، وأنَّ إحسانه إليه ليس بواضع قدرَه، بل مَنْ تواضَعَ لله رَفَعَه؛ هان عليه الأمرُ وفعل ذلك متلذِّذاً مستحلياً له. {وما يُلَقَّاها إلاَّ ذو حظٍّ عظيم}: لكونها من خصال خواصِّ الخلق، التي ينال بها العبد الرفعةَ في الدُّنيا والآخرة، التي هي من أكبرِ خصال مكارم الأخلاق.