ترجمہ و تفسیر — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 35

وَ مَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا ۚ وَ مَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا ذُوۡحَظٍّ عَظِیۡمٍ ﴿۳۵﴾
اور یہ چیز نہیں دی جاتی مگر انھی کو جو صبر کریں اور یہ نہیں دی جاتی مگر اسی کو جو بہت بڑے نصیب والا ہے۔ En
اور یہ بات ان ہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو برداشت کرنے والے ہیں۔ اور ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں
En
اور یہ بات انہیں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کریں اور اسے سوائے بڑے نصیبے والوں کے کوئی نہیں پا سکتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 35) ➊ {وَ مَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا:} یعنی برائی کا جواب سب سے اچھے طریقے کے ساتھ دینے کی توفیق انھی لوگوں کو عطا کی جاتی ہے جنھوں نے اس سے پہلے بھی صبر کی عادت اپنائی ہوتی ہے۔ { صَبَرُوْا } ماضی کا صیغہ ہے۔
➋ {وَ مَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ:} یعنی یہ خوبی کہ برائی کا جواب سب سے اچھے طریقے کے ساتھ دیں، صرف انھی لوگوں کو عطا کی جاتی ہے جو بہت بڑے نصیب والے ہوں۔ معلوم ہوا یہ حوصلہ انسان کے بس کی بات نہیں، محض اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اس لیے اپنی کوشش کے ساتھ ساتھ اسی سے صبر اور حوصلے کی دعا کرنا لازم ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

35۔ 1 یعنی برائی کو بھلائی کے ساتھ ٹالنے کی خوبی اگرچہ نہایت مفید اور بڑی ثمر آور ہے لیکن اس پر عمل وہی کرسکیں گے جو صابر ہونگے۔ غصے کو پی جانے والے اور ناپسندیدہ باتوں کو برداشت کرنے والے۔ 35۔ 2 حظ عظیم (بڑا نصیبہ) سے مراد جنت ہے۔ یعنی مذکورہ خوبیاں اس کو حاصل ہوتی ہیں جو بڑے نصیبے والا ہوتا ہے، یعنی جنتی جس کے لئے جنت میں جانا لکھ دیا گیا ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

35۔ اور یہ بات صرف انہیں نصیب ہوتی ے جو صبر کرتے ہیں اور یہ کسی بڑے بختوں [43] والے کو ہی حاصل ہوتی ہے۔
[43] بدلہ لینے کے لحاظ سے لوگوں کی تین قسمیں :۔
دنیا میں لوگ تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو برائی کا بدلہ برائی سے اور نیکی کا بدلہ نیکی سے دیتے ہیں۔ اور عام لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہوتی ہے۔ دوسرے وہ جو نیکی کا بدلہ بھی برائی سے دیتے ہیں۔ یہ بد ترین لوگ ہوتے ہیں جو بچھو کی سرشت رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ بالآخر آپ ہی اپنا نقصان کرتے ہیں۔ ان کی اس بد فطری کی وجہ سے لوگ ان سے نفرت کرتے اور ان سے پرے ہی رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور تیسرے وہ جو برائی ہونے پر بھڑک نہیں اٹھتے بلکہ اسے برداشت کر جاتے ہیں۔ بعد میں برائی کرنے والے سے خیرخواہی اور بھلائی کا سلوک کرتے ہیں۔ اور یہ کام کوئی بچوں کا کھیل نہیں بلکہ بڑے حوصلہ اور دل گردہ کا کام ہے۔ اور ایسے کام کی اسی سے توقع کی جا سکتی ہے جو بڑا صاحب عزم اور عالی حوصلہ شخص ہو۔ ایسے لوگ سب سے بہتر ہوتے ہیں۔ اور یہ لوگ بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَمَا یُلَقّٰىهَاۤ اور نہیں نصیب ہوتی یہ (صفت) یعنی اس خصلت حمیدہ کی توفیق نہیں دی جاتی ہے۔ ﴿اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں۔ جو اپنے نفس کو ان امور کا پابند بناتے ہیں، جنھیں ان کے نفس ناپسند کرتے ہیں اور انھیں ایسے امور پر عمل کرنے پر مجبور کرتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ نفس انسانی کی جبلت ہے کہ وہ برائی کا مقابلہ برائی اور عدم عفو سے کرتا ہے۔ تب وہ احسان کیوں کر کر سکتا ہے؟
جب انسان اپنے نفس کو صبر کا پابند بنالیتا ہے اور اپنے رب کی اطاعت کرتا ہے اور اس کے بے پایاں ثواب کو جانتا ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ اسی جیسا سلوک کرنا اسے کچھ فائدہ نہیں دے گا اور عداوت صرف شدت ہی میں اضافے کا باعث ہو گی اور یہ بھی علم ہے کہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے اس کی قدرومنزلت کم نہیں ہو گی، بلکہ جو اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے رفعت عطا کرتا ہے، تب معاملہ اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے اور وہ اس فعل کو سرانجام دیتے ہوئے لذت محسوس کرتا ہے۔
﴿وَمَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ اور یہ مقام انھی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں۔ یہ خاص لوگوں کی خصلت ہے جس کے ذریعے سے بندے کو دنیا و آخرت میں رفعت عطا ہوتی ہے اور یہ مکارم اخلاق میں سب سے بڑی خصلت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما يُلَقَّاها}؛ أي: وما يوفَّق لهذه الخصلة الحميدة {إلاَّ الذين} صَبَّرُوا نفوسَهم على ما تكره، وأجبروها على ما يحبُّه الله؛ فإنَّ النفوس مجبولةٌ على مقابلة المسيء بإساءتِهِ، وعدم العفو عنه؛ فكيف بالإحسان؛ فإذا صبَّر الإنسان نفسَه وامتثل أمر ربِّه وعرف جزيلَ الثواب وعلمَ أنَّ مقابلته للمسيء بجنس عمله لا يفيده شيئاً ولا يزيدُ العداوة إلاَّ شدة، وأنَّ إحسانه إليه ليس بواضع قدرَه، بل مَنْ تواضَعَ لله رَفَعَه؛ هان عليه الأمرُ وفعل ذلك متلذِّذاً مستحلياً له. {وما يُلَقَّاها إلاَّ ذو حظٍّ عظيم}: لكونها من خصال خواصِّ الخلق، التي ينال بها العبد الرفعةَ في الدُّنيا والآخرة، التي هي من أكبرِ خصال مكارم الأخلاق.