تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 29

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیۡنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ نَجۡعَلۡہُمَا تَحۡتَ اَقۡدَامِنَا لِیَکُوۡنَا مِنَ الۡاَسۡفَلِیۡنَ ﴿۲۹﴾
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کہیں گے اے ہمارے رب! تو ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ دونوں دکھا جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا، ہم انھیں اپنے قدموں کے نیچے ڈالیں، تاکہ وہ سب سے نچلے لوگوں سے ہو جائیں۔ En
اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار جنوں اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ان کو ہمیں دکھا کہ ہم ان کو اپنے پاؤں کے تلے (روند) ڈالیں تاکہ وہ نہایت ذلیل ہوں۔
En
اور کافر لوگ کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں جنوں انسانوں (کے وه دونوں فریق) دکھا جنہوں نے ہمیں گمراه کیا (تاکہ) ہم انہیں اپنے قدموں تلے ڈال دیں تاکہ وه جہنم میں سب سے نیچے (سخت عذاب میں) ہو جائیں۔ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا اور کافروں نے کہا اس سے مراد متبعین ہیں اور اس کی دلیل بعد میں آنے والا کلام ہے یعنی یہ کفار ان لوگوں پر سخت غصے کی وجہ سے یہ بات کہیں گے جنھوں نے ان کو گمراہ کیا ﴿رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْ٘جِنِّ وَالْاِنْ٘سِ اے ہمارے رب! ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ لوگ دکھلادے جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ یعنی جن و انس کی دونوں اصناف، جنھوں نے گمراہی اور عذاب کی طرف ہمیں دعوت دی اور اس راہ میں ہماری قیادت کی، وہ ہمیں دکھا۔ ﴿نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْ٘نَ ہم انھیں اپنے پاؤ ں تلے روند ڈالیں، تاکہ وہ سب سے زیادہ ذلیل و خوار لوگوں میں شمار ہوں۔ انھوں نے ہمیں گمراہ کیا، ہمیں فتنے میں مبتلا کیا اور ہمیں جہنم میں ڈالنے کا سبب بنے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جہنمی ایک دوسرے کے خلاف سخت بغض رکھیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقال الذين كفروا}؛ أي: الأتباع منهم؛ بدليل ما بعدَه على وجه الحنق على مَنْ أضلَّهم: {ربَّنا أرِنا اللَّذَين أضلاَّنا من الجنِّ والإنس}؛ أي: الصنفين اللذين قادانا إلى الضَّلال والعذاب من شياطين الجنِّ وشياطين الإنس الدعاة إلى جهنَّم، {نجعَلْهما تحتَ أقدامِنا ليكونا من الأسفلينَ}؛ أي: الأذلِّين المهانين؛ كما أضلُّونا وفتنونا وصاروا سبباً لنزولنا؛ ففي هذا بيانُ حنقِ بعضهم على بعض، وتبرِّي بعضهم من بعض.