تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 28

ذٰلِکَ جَزَآءُ اَعۡدَآءِ اللّٰہِ النَّارُ ۚ لَہُمۡ فِیۡہَا دَارُ الۡخُلۡدِ ؕ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۲۸﴾
یہ اللہ کے دشمنوں کی جزا آگ ہی ہے، انھی کے لیے اس میں ہمیشہ رہنے کا گھر ہے، اس کی جزا کے لیے جو وہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔ En
یہ خدا کے دشمنوں کا بدلہ ہے (یعنی) دوزخ۔ ان کے لئے اسی میں ہمیشہ کا گھر ہے۔ یہ اس کی سزا ہے کہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے۔
En
اللہ کے دشمنوں کی سزا یہی دوزح کی آگ ہے جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے (یہ) بدلہ ہے ہماری آیتوں سے انکار کرنے کا۔ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ اللہ کے دشمنوں کی یہی سزا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کی اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے ساتھ جنگ کی۔ ان کی جزا ان کے کفر، تکذیب، مجادلہ اور جنگ کے سبب سے ﴿النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ جہنم کی آگ (ہے) جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے۔ یعنی وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے گھڑی بھر کے لیے ان سے عذاب دور نہیں ہو گا اور نہ ان کی مدد ہی کی جائے گی۔ ﴿جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ یہ اس بات کی سزا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔ کیونکہ یہ نہایت واضح آیات اور قطعی دلائل ہیں جو یقین کا فائدہ دیتے ہیں، لہٰذا ان کا انکار کرنا سب سے بڑا عناد اور سب سے بڑا ظلم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ذلك جزاءُ أعداءِ الله}: الذين حاربوه وحاربوا أولياءه؛ بالكفر والتكذيب والمجادلة والمجالدةِ. {[النار] لهم فيها دارُ الخلدِ}؛ أي: الخلود الدائم، الذي لا يفتَّر عنهم العذابُ ساعةً ولا هم يُنصرون، وذلك {جزاءً بما كانوا بآياتِنا يجحَدونَ}؛ فإنَّها آياتٌ واضحةٌ وأدلةٌ قاطعةٌ مفيدةٌ لليقين، فأعظم الظُّلم وأكبر العناد جَحْدُها والكفر بها.