اور ہم نے ان کے لیے کچھ ساتھی مقرر کر دیے تو انھوں نے ان کے لیے ان کے سامنے اور ان کے پیچھے جو کچھ تھا، خوش نما بنا دیا اور ان پر بات ثابت ہو گئی، ان قوموں کے ساتھ ساتھ جو جنوں اور انسانوں میں سے ان سے پہلے گزر چکی تھیں، بے شک وہ خسارہ اٹھانے والے تھے۔
En
اور ہم نے (شیطانوں کو) ان کا ہم نشین مقرر کردیا تھا تو انہوں نے ان کے اگلے اور پچھلے اعمال ان کو عمدہ کر دکھائے تھے اور جنات اور انسانوں کی جماعتیں جو ان سے پہلے گزر چکیں ان پر بھی خدا (کے عذاب) کا وعدہ پورا ہوگیا۔ بےشک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
اور ہم نے ان کے کچھ ہم نشیں مقرر کر رکھے تھے، جنہوں نے ان کے اگلے پچھلے اعمال ان کی نگاہوں میں خوبصورت بنا رکھے تھے اور ان کے حق میں بھی اللہ کا قول ان امتوں کے ساتھ پورا ہوا جو ان سے پہلے جنوں انسانوں کی گزر چکی ہیں۔ یقیناً وه زیاں کار ﺛابت ہوئے۔
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی ہم نے حق کا انکار کرنے والے ان ظالموں کے لیے ﴿قُ٘رَنَآءَ ﴾”ہم نشین“ شیاطین کو ساتھی مقرر کر دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَمْتَرَاَنَّـاۤ٘اَرْسَلْنَاالشَّیٰطِیْنَعَلَىالْ٘كٰفِرِیْنَتَؤُزُّهُمْاَزًّا﴾ (مریم: 19؍83) ”کیا آپ دیکھتے نہیں ہم کفار کی طرف شیاطین کو بھیجتے ہیں جو انھیں برائی پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔“ یعنی وہ انھیں گناہ کا ارتکاب کرنے کے لیے بے قرار رکھتے ہیں اور ان کو بہکاتے رہتے ہیں۔
اس کا سبب یہ ہے کہ ان شیاطین نے مزین کردیا۔﴿ لَهُمْمَّابَیْنَاَیْدِیْهِمْوَمَاخَلْفَهُمْ ﴾”ان کے لیے جو ان کے آگے تھا اور جو ان کے پیچھے تھا۔“ پس ان شیاطین نے دنیا اور اس کی خوبصورتی کو ان کی آنکھوں کے سامنے مزین کر دیا اور انھیں اس کی لذات و شہوات محرمہ کے حوالے کر دیا، یہاں تک کہ وہ فتنے میں مبتلا ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا اقدام کیا اور جیسے چاہا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے خلاف جنگ کی راہ چل نکلے اور انھوں نے آخرت کو ان سے دور کر دیا اور اس کی یاد کو فراموش کرا دیا۔ بسااوقات آخرت کے وقوع کے بارے میں ان کے دلوں میں شبہات پیدا کیے جس سے ان کے دلوں سے آخرت کا خوف چلا گیا اور وہ ان کو لے کر کفر، بدعات اور معاصی کی راہوں پر گامزن ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ کا ان مکذبینِ حق پر شیاطین کو مسلط کرنا، ان کی اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی آیات سے روگردانی اور ان کے انکار حق کے سبب سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَنْیَّعْشُعَنْذِكْرِالرَّحْمٰنِنُ٘قَ٘یِّضْلَهٗشَیْطٰنًافَهُوَلَهٗقَ٘رِیْنٌ۰۰۳۶وَاِنَّهُمْلَیَصُدُّوْنَهُمْعَنِالسَّبِیْلِوَیَحْسَبُوْنَاَنَّهُمْمُّهْتَدُوْنَ ﴾ (الزخرف: 43؍36۔37) ”جو شخص رحمان کے ذکر سے غفلت برتتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں جو اس کا ساتھی ہوتا ہے، یہ شیاطین انھیں راہ راست پر چلنے سے روک دیتے ہیں اور یہ اپنی جگہ یہی سمجھتے ہیں کہ راہ راست پر چل رہے ہیں۔“
﴿وَحَقَّعَلَیْهِمُالْقَوْلُ ﴾”اور ان پر حکم الٰہی ثابت ہوگیا“ یعنی اللہ تعالیٰ کا قول ان پر واجب ہو گیا اور اس کی قضاوقدر کا فیصلہ، عذاب کے ساتھ ان پر نازل ہو گیا۔ ﴿فِیْۤاُمَمٍقَدْخَلَتْمِنْقَبْلِهِمْمِّنَالْ٘جِنِّوَالْاِنْ٘سِ١ۚاِنَّهُمْكَانُوْاخٰسِرِیْنَ ﴾”جنوں اور انسانوں کی جماعتوں میں جو ان سے پہلے گزر چکیں (جن پر بھی اللہ کا وعدہ پورا ہوا) کہ بے شک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔“ جو اپنے دین اور آخرت کے بارے میں گھاٹے میں پڑ گئے اور جو شخص گھاٹے میں پڑ جائے تو اسے ذلت، اور عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {وقيَّضْنا}: لهؤلاء الظالمين الجاحدين للحقِّ {قرناءَ}: من الشياطين؛ كما قال تعالى: {ألم تَرَ أنَّا أرسَلْنا الشياطينَ على الكافرين تَؤُزُّهم أزًّا}؛ أي: تزعِجُهم إلى المعاصي، وتحثُّهم عليها، بسبب ما زيّنوا {لهم ما بين أيديهم وما خلفهم}: فالدنيا زخرفوها بأعينهم ودَعَوْهم إلى لذاتها وشهواتها المحرَّمة، حتى افْتَتَنوا فأقدَموا على معاصي الله وسَلَكوا ما شاؤوا من محاربة الله ورسوله، والآخرة بَعَّدوها عليهم وأنْسَوْهم ذِكْرَها، وربما أوقعوا عليهم الشُّبه بعدم وقوعها، فترحَّلَ خوفُها من قلوبهم، فقادوهم إلى الكفر والبدع والمعاصي. وهذا التسليطُ والتقييضُ من الله للمكذِّبين الشياطين بسبب إعراضِهم عن ذِكْرِ الله وآياته وجحودِهم الحقَّ؛ كما قال تعالى: {ومَنْ يَعْشُ عن ذِكْرِ الرحمن نُقَيِّضْ له شيطاناً فهو له قرينٌ. وإنَّهم لَيَصُدُّونَهم عن السبيل ويَحْسَبونَ أنَّهم مهتدونَ}. {وحقَّ عليهم القولُ}؛ أي: وجب عليهم ونزل القضاءُ والقدرُ بعذابهم {في} جملة {أمم قد خَلَتْ من قبلِهِم من الجنِّ والإنس إنَّهم كانوا خاسرين}: لأديانهم وآخرتهم، ومن خَسِرَ؛ فلا بدَّ أن يَذِلَّ ويشقى ويعذَّبَ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔