تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَزَيَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ …: ” مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ “} سے مراد وہ اعمال ہیں جو وہ دنیا میں کر رہے تھے اور {” وَ مَا خَلْفَهُمْ “} سے مراد وہ اعمالِ بد ہیں جو اس سے پہلے کر چکے تھے۔ یعنی وہ برے ساتھی ان کے لیے ان کے موجودہ اور گزشتہ تمام برے اعمال کو خوش نما بنا کر پیش کرتے رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ انھی پر جمے رہتے ہیں اور ان لوگوں میں شامل ہو جاتے ہیں جن کے اعمالِ بد کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان صادق آتا ہے: «لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» [ہود: ۱۱۹] ”میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے ضرور ہی بھروں گا۔“
بعض مفسرین نے {” مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ “} سے مراد دنیا اور {” وَ مَا خَلْفَهُمْ “} سے مراد آخرت لی ہے۔ یعنی ان کے برے ساتھی آخرت کے متعلق بھی انھیں خوش گمانی میں مبتلا رکھتے ہیں کہ اوّل تو وہ ہو گی ہی نہیں اور اگر ہوئی بھی تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمھیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا ہے وہاں بھی نوازے گا۔ مزید دیکھیے سورۂ مریم (۷۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[32] یعنی جو لوگ اپنے برے ساتھیوں کی باتوں پر لگ جاتے ہیں۔ اور ان کے بھرے میں آجاتے ہیں وہ سمجھ لیں کہ وہ خود ہی اپنی تباہی کا سامان کر رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے اور آیتیں ہے «وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:36-37]، ان پر کلمہ عذاب صادق آ گیا۔ جیسے ان لوگوں پر جو ان سے پہلے جیسے تھے۔ نقصان اور گھاٹے میں یہ اور وہ یکساں ہو گئے، کفار نے آپس میں مشورہ کر کے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ وہ کلام اللہ کو نہیں مانیں گے نہ ہی اس کے احکام کی پیروی کریں گے۔ بلکہ ایک دوسرے سے کہہ رکھا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو شور و غل کرو اور اسے نہ سنو۔ تالیاں بجاؤ سیٹیاں بجاؤ آوازیں نکالو۔ چنانچہ قریشی یہی کرتے تھے۔ عیب جوئی کرتے تھے انکار کرتے تھے۔ دشمنی کرتے تھے اور اسے اپنے غلبہ کا باعث جانتے تھے۔
اس کے بعد آیت کا مطلب سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جن سے مراد ابلیس اور انس سے مراد آدم علیہ السلام کا وہ لڑکا ہے جس نے اپنے بھائی کو مار ڈالا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ ابلیس تو ہر مشرک کو پکارے گا۔ اور آدم کا یہ لڑکا ہر کبیرہ گناہ کرنے والے کو پکارے گا۔ پس ابلیس شرک کی طرف اور تمام گناہوں کی طرف لوگوں کو دعوت دینے والا ہے اور اول رسول آدم کا یہ لڑکا جو اپنے بھائی کا قاتل ہے۔“
چنانچہ حدیث میں ہے { روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا گناہ آدم کے اس پہلے فرزند پر بھی ہوتا ہے کیونکہ قتل بیجا کا شروع کرنے والا یہ ہے }۔۱؎ [صحیح بخاری:3335]
پس کفار قیامت کے دن جن و انس جو انہیں گمراہ کرنے والے تھے انہیں نیچے کے طبقے میں داخل کرانا چاہیں گے تا کہ انہیں سخت عذاب ہوں۔ وہ درک اسفل میں چلے جائیں اور ان سے زیادہ سزا بھگتیں۔ سورۃ الاعراف میں بھی یہ بیان گزر چکا ہے کہ یہ ماننے والے جن کی مانتے تھے ان کیلئے قیامت کے دن دوہرے عذاب کی درخواست کریں گے جس پر کہا جائے گا کہ «قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] ’ ہر ایک دوگنے عذاب میں ہی ہے، لیکن تم بے شعور ہو ‘۔ یعنی ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق سزا ہو رہی ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88]۔ یعنی ’ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا انہیں ہم ان کے فساد کی وجہ سے عذاب پر عذاب دیں گے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {وقيَّضْنا}: لهؤلاء الظالمين الجاحدين للحقِّ {قرناءَ}: من الشياطين؛ كما قال تعالى: {ألم تَرَ أنَّا أرسَلْنا الشياطينَ على الكافرين تَؤُزُّهم أزًّا}؛ أي: تزعِجُهم إلى المعاصي، وتحثُّهم عليها، بسبب ما زيّنوا {لهم ما بين أيديهم وما خلفهم}: فالدنيا زخرفوها بأعينهم ودَعَوْهم إلى لذاتها وشهواتها المحرَّمة، حتى افْتَتَنوا فأقدَموا على معاصي الله وسَلَكوا ما شاؤوا من محاربة الله ورسوله، والآخرة بَعَّدوها عليهم وأنْسَوْهم ذِكْرَها، وربما أوقعوا عليهم الشُّبه بعدم وقوعها، فترحَّلَ خوفُها من قلوبهم، فقادوهم إلى الكفر والبدع والمعاصي. وهذا التسليطُ والتقييضُ من الله للمكذِّبين الشياطين بسبب إعراضِهم عن ذِكْرِ الله وآياته وجحودِهم الحقَّ؛ كما قال تعالى: {ومَنْ يَعْشُ عن ذِكْرِ الرحمن نُقَيِّضْ له شيطاناً فهو له قرينٌ. وإنَّهم لَيَصُدُّونَهم عن السبيل ويَحْسَبونَ أنَّهم مهتدونَ}. {وحقَّ عليهم القولُ}؛ أي: وجب عليهم ونزل القضاءُ والقدرُ بعذابهم {في} جملة {أمم قد خَلَتْ من قبلِهِم من الجنِّ والإنس إنَّهم كانوا خاسرين}: لأديانهم وآخرتهم، ومن خَسِرَ؛ فلا بدَّ أن يَذِلَّ ويشقى ويعذَّبَ.