تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿كَذٰلِكَیُؤْفَكُالَّذِیْنَكَانُوْابِاٰیٰتِاللّٰهِیَجْحَدُوْنَ ﴾”اسی طرح وہ لوگ (بھی) بہکائے جاتے رہے ہیں جو اللہ کی آیات سے انکار کیا کرتے تھے۔“ یہ ان کے آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر ان کے ظلم و تعدی کی سزا ہے کہ ان کو توحید و اخلاص سے پھیر دیا گیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَامَاۤاُنْزِلَتْسُوْرَةٌنَّ٘ظَ٘رَبَعْضُهُمْاِلٰىبَعْضٍ١ؕهَلْیَرٰؔىكُمْمِّنْاَحَدٍثُمَّانْ٘صَرَفُوْا١ؕصَرَفَاللّٰهُقُ٘لُوْبَهُمْبِاَنَّهُمْقَوْمٌلَّایَفْقَهُوْنَ ﴾ (التوبۃ: 9؍127) ”جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں کہ آیا تمھیں کسی نے دیکھا تو نہیں، پھر وہ لوٹ جاتے ہیں، اللہ نے بھی ان کے دلوں کو پھیر دیا کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{كذلك يُؤْفَكُ الذين كانوا بآيات الله يَجْحَدونَ}؛ أي: عقوبةً على جحدهم لأيات الله وتعدِّيهم على رسله؛ صُرِفوا عن التوحيد والإخلاص؛ كما قال تعالى: {وإذا ما أنزلت سورةٌ نَظَرَ بعضهم إلى بعض هل يراكم من أحدٍ ثم انصرفوا صَرَفَ الله قلوبَهم بأنَّهم قومٌ لا يفقهون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔