تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 62

ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ ۘ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۫ۚ فَاَنّٰی تُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۶۲﴾
یہی ہے اللہ تمھارا رب، ہر چیز کا پیدا کرنے والا، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں بہکائے جاتے ہو۔ En
یہی خدا تمہارا پروردگار ہے جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں بھٹک رہے ہو؟
En
یہی اللہ ہے تم سب کا رب ہر چیز کا خالق اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر کہاں تم پھرے جاتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ذٰلِكُمُ یہ ہے جس نے یہ سب کچھ کیا ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمْ اللہ تمھارا رب جو اپنی الوہیت اور ربوبیت میں منفرد ہے اور ان نعمتوں میں اس کا منفرد ہونا اس کی ربوبیت میں سے ہے اور ان نعمتوں پر شکر کا واجب کرنا اس کی الوہیت میں سے ہے۔ ﴿خَالِـقُ كُ٘لِّ شَیْءٍ ہرچیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ یہ اس کی ربوبیت کا اثبات ہے ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ اس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں۔ یہ جملہ اس بات کو متحقق کرتا ہے کہ وہ اکیلا ہی عبودیت کا مستحق ہے اس کا کوئی شریک نہیں، پھر نہایت صراحت کے ساتھ اپنی عبادت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ پھر تم کدھر بہکے جارہے ہو۔ یعنی تم اس اکیلے اللہ کی عبادت سے کیونکر گریز کر رہے ہو، حالانکہ اس نے تم پر دلیل کو واضح اور تمھارے سامنے راہِ راست کو روشن کر دیا ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ذلكم}: الذي فعلَ ما فعلَ {الله ربُّكم}؛ أي: المنفرد بالإلهية والمنفرد بالرُّبوبية؛ لأنَّ انفراده بهذه النعم من ربوبيَّته، وإيجابها للشكر من ألوهيَّته.

{خالقُ كلِّ شيءٍ}: تقريرُ لربوبيته ، {لا إله إلا هو}: تقريرٌ أنَّه المستحقُّ للعبادة وحده لا شريكَ له. ثم صرح بالأمر بعبادتِهِ، فقال: {فأنَّى تُؤفَكونَ}؛ أي: كيف تُصرفون عن عبادتِهِ وحدَه لا شريك له بعدما أبانَ لكم الدليلَ، وأنار لكم السبيل.