تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 5

کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ۪ وَ ہَمَّتۡ کُلُّ اُمَّۃٍۭ بِرَسُوۡلِہِمۡ لِیَاۡخُذُوۡہُ وَ جٰدَلُوۡا بِالۡبَاطِلِ لِیُدۡحِضُوۡا بِہِ الۡحَقَّ فَاَخَذۡتُہُمۡ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ عِقَابِ ﴿۵﴾
ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور ان کے بعد بھی کئی جماعتوں نے اور ہر امت نے اپنے رسول کے متعلق ارادہ کیا کہ اسے گرفتار کر لیں اور انھوں نے باطل کے ساتھ جھگڑا کیا، تاکہ اس کے ذریعے حق کو پھسلا دیں، تو میں نے انھیں پکڑ لیا، پھر میری سزا کیسی تھی؟ En
ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد اور اُمتوں نے بھی (پیغمبروں کی) تکذیب کی۔ اور ہر اُمت نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہی قصد کیا کہ اس کو پکڑ لیں اور بیہودہ (شہبات سے) جھگڑتے رہے کہ اس سے حق کو زائل کردیں تو میں نے ان کو پکڑ لیا (سو دیکھ لو) میرا عذاب کیسا ہوا
En
قوم نوح نے اور ان کے بعد کے گروہوں نے بھی جھٹلایا تھا۔ اور ہر امت نے اپنے رسول کو گرفتار کر لینے کا اراده کیا اور باطل کے ذریعہ کج بحثیاں کیں، تاکہ ان سے حق کو بگاڑ دیں پس میں نے ان کو پکڑ لیا، سو میری طرف سے کیسی سزا ہوئی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ڈرایا ہے جو آیات الٰہی کے ابطال کے لیے جھگڑتے اور بحث مباحثہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے گمراہ قومیں کیا کرتی تھیں، مثلاً: ﴿قَوْمُ نُوْحٍ قوم نوح اور قوم عاد ﴿وَّالْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ اور ان کے بعد کی دوسری جماعتوں نے (بھی جھٹلایا) جو حق کو نیچا دکھانے اور باطل کی مدد کرنے کے لیے جمع ہو گئے ﴿وَ اور ان کا یہ حال ہو گیا اور وہ اس بات پر اکٹھے ہو گئے کہ ﴿هَمَّتْ كُ٘لُّ اُمَّةٍۭ ہر گروہ نے ارادہ کر لیا مختلف گروہوں میں سے ﴿بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ کہ وہ اپنے رسول کو گرفتار کرلیں۔ یعنی اس کو قتل کردیں یہ انبیاء و مرسلین کے خلاف، جو اہل خیر کے قائد تھے، بدترین ہتھکنڈا تھا، جو صریح حق پر تھے جس میں کوئی شک وشبہ نہ تھا۔ انھوں نے انبیاء کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ کیا اس بغاوت، گمراہی اور بدبختی کے بعد اس عذاب عظیم کے سوا کچھ رہ جاتا ہے جس میں سے یہ کبھی نہ نکلیں گے؟
بنابریں ان کے لیے دنیاوی اور اخروی عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿فَاَخَذْتُهُمْ پھر میں نے انھیں پکڑ لیا۔ یعنی ان کو تکذیب حق اور حق کے خلاف اکٹھے ہونے کے سبب سے اپنی گرفت میں لے لیا ﴿فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ پھر (دیکھ لو) ہماری سزا کیسی سخت تھی۔ یہ سخت ترین اور بدترین عذاب تھا، یہ ایک زور دار آواز تھی، پتھروں کو اڑاتی ہوئی طوفانی ہوا تھی، یا اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا اور ان کو اپنی گرفت میں لے لیا یا سمندر کو حکم دیا اور ان کو غرق کر دیا، تب یہ مردہ پڑے کے پڑے رہ گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم هدَّدَ مَنْ جادَلَ بآيات الله لِيُبْطِلَها كما فعل مَنْ قَبْلَه من الأمم من {قوم نوح} وعاد {والأحزاب من بعدِهِم}، الذين تحزَّبوا وتجمَّعوا على الحقِّ ليبطلوه وعلى الباطل لينصُروه، {و} أنَّه بلغت بهم الحالُ وآلَ بهم التحزُّبُ إلى أنَّه {همَّتْ كلُّ أمةٍ}: من الأمم {برسولهم ليأخذوهُ}؛ أي: يقتلوه، وهذا أبلغ ما يكون للرسل، الذين هم قادةُ أهل الخير، الذين معهم الحقُّ الصرفُ، الذي لا شك فيه ولا اشتباه، همُّوا بقتلهم؛ فهل بعد هذا البغي والضلال والشقاء إلاَّ العذاب العظيم الذي لا يخرجون منه؟! ولهذا قال في عقوبتهم الدنيويَّة والأخرويَّة: {فأخذْتُهم}؛ أي: بسبب تكذيبهم وتحزُّبهم {فكيف كان عقاب}: كان أشدَّ العقاب وأفظَعَه، إنْ هو إلا صيحةٌ أو حاصبٌ ينزل عليهم، أو يأمر الأرضَ أن تأخُذَهم أو البحرَ أن يُغْرقَهم؛ فإذا هم خامدونَ.