تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک وتعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ﴿مَایُجَادِلُفِیْۤاٰیٰتِاللّٰهِاِلَّاالَّذِیْنَكَفَرُوْا ﴾”اللہ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں۔“ یہاں مجادلہ سے مراد ہے، آیات الٰہی کو رد کرنا اور باطل کے ذریعے سے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے جھگڑا کرنا اور یہ کفار کا کام ہے، رہے اہل ایمان تو وہ حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے سے باطل کو نیچا دکھائیں۔
انسان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنے دنیاوی احوال سے دھوکہ کھائے اور یہ سمجھنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کا دنیا میں اس کو اپنی نعمتوں سے نوازنا، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت کی دلیل ہے اور وہ حق پر ہے۔ بنابریں ارشاد فرمایا: ﴿فَلَایَغْرُرْكَتَقَلُّبُهُمْفِیالْبِلَادِ ﴾”ان کا دنیا کے ملکوں میں چلنا پھرنا آپ کو کسی دھوکے میں نہ ڈال دے۔“ یعنی مختلف انواع کی تجارت اور کاروبار کے سلسلے میں ان کا ملکوں میں آنا جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکے میں مبتلا نہ کردے۔ بلکہ بندے پر واجب یہ ہے کہ وہ لوگوں سے حق کے ساتھ عبرت حاصل کرے، حقائق شرعیہ کو دیکھے، ان کی کسوٹی پر لوگوں کو پرکھے، لوگوں کی کسوٹی پر حق کو نہ پر کھے جیسے ان لوگوں کا وتیرہ ہے جو علم وعقل سے محروم ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تبارك وتعالى أنَّه ما يجادِلُ في آياتِه إلاَّ الذينَ كَفَروا، والمرادُ بالمجادلة هنا المجادلةُ لردِّ آيات الله ومقابلَتِها بالباطل؛ فهذا من صنيع الكفارِ، وأمَّا المؤمنونَ؛ فيخضعون للحقِّ لِيُدْحِضوا به الباطلَ ، ولا ينبغي للإنسان أن يغترَّ بحالةِ الإنسان الدنيويَّة ويظنَّ أنَّ إعطاء اللهِ إيَّاه في الدُّنيا دليلٌ على محبَّتِهِ له وأنَّه على الحقِّ، ولهذا قال: {فلا يَغْرُرْكَ تقلُّبُهم في البلادِ}؛ أي: تردُّدهم فيها بأنواع التجاراتِ والمكاسبِ، بل الواجبُ على العبدِ أن يَعْتَبِرَ الناس بالحقِّ وينظُرَ إلى الحقائق الشرعيَّةِ ويزنَ بها الناسَ، ولا يزنُ الحقَّ بالناس كما عليه مَنْ لا علم ولا عقلَ له.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔