تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 11

قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثۡنَتَیۡنِ وَ اَحۡیَیۡتَنَا اثۡنَتَیۡنِ فَاعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوۡبِنَا فَہَلۡ اِلٰی خُرُوۡجٍ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿۱۱﴾
وہ کہیں گے اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو دفعہ موت دی اور تو نے ہمیں دو دفعہ زندہ کیا، سو ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا، تو کیا نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟ En
وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو دفعہ بےجان کیا اور دو دفعہ جان بخشی۔ ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے؟
En
وه کہیں گے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں دوبار مارا اور دو بار ہی جلایا، اب ہم اپنے گناہوں کے اقراری ہیں، تو کیا اب کوئی راه نکلنے کی بھی ہے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

تب وہ واپس لوٹائے جانے کی تمنا کریں گے اور کہیں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ اے ہمارے رب تونے ہمیں دو مرتبہ موت دی۔ ایک قول کے مطابق اس سے مراد پہلی موت اور دو مرتبہ صور پھونکنے کے درمیان کی موت ہے یا اس سے مراد ان کے وجود میں لائے جانے سے پہلے عدم محض اور وجود میں لائے جانے کے بعد کی موت ہے۔ ﴿وَاَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ اور دو مرتبہ تونے ہمیں زندہ کیا۔ یعنی دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی، ﴿فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ پس ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے؟ یعنی وہ نہایت حسرت سے یہ التجا کریں گے، مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فتمنَّوا الرجوع و {قالوا ربَّنا أمتَّنا اثنتين}: يريدون الموتةَ الأولى وما بين النفختين على ما قيل، أو العدم المحض قبل إيجادهم ثم أماتهم بعد ما أوجدهم، {وأحْيَيْتنا اثنتين}: الحياة الدنيا والحياة الأخرى، {فاعتَرَفْنا بذُنوبنا فهل إلى خروج من سبيل}؛ أي: تحسَّروا وقالوا ذلك، فلم يفد ولم ينجعْ.