وہ کہیں گے اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو دفعہ موت دی اور تو نے ہمیں دو دفعہ زندہ کیا، سو ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا، تو کیا نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟
En
وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو دفعہ بےجان کیا اور دو دفعہ جان بخشی۔ ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے؟
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
تب وہ واپس لوٹائے جانے کی تمنا کریں گے اور کہیں گے: ﴿رَبَّنَاۤاَمَتَّنَااثْنَتَیْنِ ﴾”اے ہمارے رب تونے ہمیں دو مرتبہ موت دی۔“ ایک قول کے مطابق اس سے مراد پہلی موت اور دو مرتبہ صور پھونکنے کے درمیان کی موت ہے یا اس سے مراد ان کے وجود میں لائے جانے سے پہلے عدم محض اور وجود میں لائے جانے کے بعد کی موت ہے۔ ﴿وَاَحْیَیْتَنَااثْنَتَیْنِ ﴾”اور دو مرتبہ تونے ہمیں زندہ کیا۔“ یعنی دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی، ﴿فَاعْتَرَفْنَابِذُنُوْبِنَافَهَلْاِلٰىخُرُوْجٍمِّنْسَبِیْلٍ ﴾”پس ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے؟“ یعنی وہ نہایت حسرت سے یہ التجا کریں گے، مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فتمنَّوا الرجوع و {قالوا ربَّنا أمتَّنا اثنتين}: يريدون الموتةَ الأولى وما بين النفختين على ما قيل، أو العدم المحض قبل إيجادهم ثم أماتهم بعد ما أوجدهم، {وأحْيَيْتنا اثنتين}: الحياة الدنيا والحياة الأخرى، {فاعتَرَفْنا بذُنوبنا فهل إلى خروج من سبيل}؛ أي: تحسَّروا وقالوا ذلك، فلم يفد ولم ينجعْ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔