بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا انھیں پکار کر کہا جائے گا کہ یقینا اللہ کا ناراض ہونا بہت زیادہ تھا تمھارے اپنے آپ پر ناراض ہونے سے، جب تمھیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے۔
En
جن لوگوں نے کفر کیا ان سے پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ جب تم (دنیا میں) ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے اور مانتے نہیں تھے تو خدا اس سے کہیں زیادہ بیزار ہوتا تھا جس قدر تم اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہو
بےشک جن لوگوں نے کفر کیا انہیں یہ آواز دی جائے گی کہ یقیناً اللہ کا تم پر غصہ ہونااس سے بہت زیاده ہے جو تم غصہ ہوتے تھے اپنے جی سے، جب تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے پھر کفر کرنے لگتے تھے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اس فضیحت و رسوائی کا ذکر کرتا ہے جس کا کفار کو سامنا کرنا ہو گا، نیز ان کی دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کے رد ہونے اور ان پر زجروتوبیخ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اِنَّالَّذِیْنَكَفَرُوْا ﴾”بے شک جن لوگوں نے کفر کیا۔“ اللہ تعالیٰ نے اسے مطلق بیان کیا ہے تاکہ یہ کفر کی تمام انواع کو شامل ہو، مثلاً: اللہ تعالیٰ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار وغیرہ۔ جب یہ لوگ جہنم میں داخل ہوں گے، تو اقرار کریں گے کہ وہ اپنے گناہوں کے باعث جہنم کے مستحق ہیں وہ اپنے آپ پر شدید غیظ و غضب کا اظہار کریں گے۔ تب اس وقت ان کو پکار کر کہا جائے گا: ﴿لَمَقْتُاللّٰهِ ﴾ یعنی تم پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی ﴿اِذْتُدْعَوْنَاِلَىالْاِیْمَانِفَتَكْ٘فُرُوْنَ ﴾ یعنی جب تمھیں اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کے متبعین نے ایمان کی دعوت دی، تمھارے سامنے دلائل و براہین بیان کیے جن سے حق واضح ہو گیا، مگر تم نے کفر کو اپنائے رکھا اور ایمان سے منہ موڑ لیا، جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تخلیق فرمایا تھا اور تم اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کے سائے سے نکل گئے تو اللہ تعالیٰ تم پر غصے اور ناراض ہوگیا۔ پس یہ ناراضی ﴿اَكْبَرُمِنْمَّؔقْتِكُمْاَنْفُسَكُمْ ﴾”تمھاری اپنی ناراضی سے کہیں زیادہ ہے۔“ یعنی اس کریم ہستی کی یہ ناراضی ہمیشہ تم پر نازل رہی حتی کہ تم اس حالت کو پہنچ گئے۔ آج تم پر اللہ تعالیٰ کا غیظ وغضب اور اس کا عذاب نازل ہوگا جبکہ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے ثواب سے سر فراز ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن الفضيحة والخزي الذي يصيب الكافرين وسؤالهم الرجعةَ والخروجَ من النار، وامتناع ذلك عليهم وتوبيخهم، فقال: {إنَّ الذين كفروا}: أطلقه ليشملَ أنواع الكفر كلَّها من الكفر بالله أو بكتبه أو برسله أو باليوم الآخر، حين يدخلون النار، ويُقِرُّون أنهم مستحقُّونها؛ لما فعلوه من الذنوب والأوزار، فيمقتون أنفسهم لذلك أشدَّ المقت، ويغضبون عليها غاية الغضب، فينادَوْن عند ذلك ويقال لهم: {لَمَقْتُ الله}؛ أي: إياكم إذ تُدْعَون إلى الإيمان فتكفرون؛ أي: حين دعتْكُم الرسل وأتباعهم إلى الإيمان، وأقاموا لكم من البيناتِ ما تبين به الحقُّ، فكفرتم وزهدتم في الإيمان الذي خلقكم الله له، وخرجتُم من رحمته الواسعة، فمقتكم وأبغضكم؛ فهذا {أكبر من مقتِكُم أنفسَكم}؛ أي: فلم يزل هذا المقت مستمرًّا عليكم، والسخط من الكريم حالاًّ بكم، حتى آلت بكم الحال إلى ما آلت؛ فاليوم حلَّ عليكم غضبُ الله وعقابه، حين نال المؤمنون رضوانَ الله وثوابه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔