تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمھیں پا لے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔ اور اگر انھیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے۔ کہہ دے سب اللہ کی طرف سے ہے، پھر ان لوگوں کو کیا ہے کہ قریب نہیں ہیں کہ کوئی بات سمجھیں۔
En
(اے جہاد سے ڈرنے والو) تم کہیں رہو موت تو تمہیں آ کر رہے گی خواہ بڑے بڑے محلوں میں رہو اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے تو (اے محمدﷺ تم سے) کہتے ہیں کہ یہ گزند آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچا) ہے کہہ دو کہ (رنج وراحت) سب الله ہی کی طرف سے ہے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے
تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آپکڑے گی، گو تم مضبوط قلعوں میں ہو، اور اگر انہیں کوئی بھلائی ملتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اگر کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے۔ انہیں کہہ دو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ انہیں کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات سمجھنے کے بھی قریب نہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ بچاؤ کی تدبیر تقدیر کے مقابلے میں کوئی کام نہیں آسکتی اور گھر میں بیٹھ رہنے والے کا بیٹھنا، اللہ کی تقدیر کو ہٹا نہیں سکتا۔ ﴿ اَیْنَمَاتَكُوْنُوْایُدْرِكْكُّمُالْ٘مَوْتُ ﴾”تم جہاں کہیں بھی رہو موت تمھیں آ پکڑے گی“ یعنی تم کسی زمانے میں اور کسی بھی جگہ پر ہو ﴿ وَلَوْؔكُنْتُمْفِیْبُرُوْجٍمُّشَیَّدَةٍ ﴾”خواہ تم مضبوط قلعوں اور اونچے محلوں میں ہی پناہ کیوں نہ لے لو (موت تمھیں پا لے گی)۔“
یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کی ترغیب کے لیے ہے اللہ تعالیٰ کبھی تو جہاد کی فضیلت اور اس کا ثواب بیان کر کے اس کی ترغیب دیتا ہے اور کبھی جہاد کو ترک کرنے کی سزا سے ڈرا کر جہاد پر آمادہ کرتا ہے۔ کبھی اس بارے میں آگاہ کر کے جہاد کے لیے ابھارتا ہے کہ جہاد سے جی چرا کر گھروں میں بیٹھ رہنے والوں کا بیٹھنا کسی کام نہیں آتا۔ اور کبھی کبھی اللہ تعالیٰ جہاد کے راستے کو ان کے لیے آسان کر دیتا ہے۔
﴿ وَاِنْتُصِبْهُمْحَسَنَةٌ ﴾”اور اگر انھیں کوئی بھلائی ملتی ہے“ اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو علم نہیں رکھتے، انبیاء و رسل علیہم السلام کی تعلیمات سے روگردانی اور ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ جب انھیں کوئی بھلائی مثلاً شادابی، کثرت مال، کثرت اولاد اور صحت وغیرہ حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں ﴿ هٰؔذِهٖمِنْعِنْدِاللّٰهِ ﴾”یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔“ جب انھیں کسی تکلیف مثلاً قحط، فقر و فاقہ، احباب و اولاد کی موت اور مرض وغیرہ کا سامنا ہوتا ہے تو پکار اٹھتے ہیں: ﴿ هٰؔذِهٖمِنْعِنْدِكَ ﴾”یہ (تکلیف) آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچی) ہے۔“ یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !یہ تمام مصیبت اس کے سبب سے آن پڑی ہے جو آپ لے کر آئے ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے بدشگونی لی، جیسا کہ ان سے پہلے کفار اللہ تعالیٰ کے رسولوں سے برا شگون لیتے رہے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کی قوم کے بارے میں خبر دی ہے: ﴿ فَاِذَاجَآءَتْهُمُالْحَسَنَةُقَالُوْالَنَاهٰؔذِهٖ١ۚوَاِنْتُصِبْهُمْسَیِّئَةٌیَّطَّیَّرُوْابِمُوْسٰؔىوَمَنْمَّعَهٗ ﴾ (الاعراف: 7؍131) ”جب ان کو کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے تو موسیٰ اور ان کے اصحاب کی بدشگونی قرار دیتے ہیں۔“ اور جیسا کہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے کہا: ﴿ اطَّیَّرْنَابِكَوَبِمَنْمَّعَكَ ﴾ (النمل: 27؍47) ”تم اور تمھارے ساتھی ہمارے لیے بدشگونی کا باعث ہیں۔“ اور جیسے یاسین کی قوم نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿ اِنَّاتَطَیَّرْنَابِكُمْ١ۚلَىِٕنْلَّمْتَنْتَهُوْالَـنَرْجُمَنَّـكُمْ﴾ (یٰسین: 36؍18) ”ہم تمھیں بدشگون سمجھتے ہیں اگر تم باز نہیں آؤ گے تو ہم تمھیں سنگسار کر دیں گے۔“
چونکہ کفر کی وجہ سے ان کے دل باہم مشابہ ہیں اس لیے ان کے اقوال و افعال میں بھی مشابہت پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو برائی کے حصول اور بھلائی کے زوال کو انبیائے کرام کی تعلیمات یا بعض تعلیمات سے منسوب کرتے ہیں وہ اس مذمت میں داخل ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے: ﴿ قُ٘لْكُ٘لٌّ٘ ﴾”کہہ دیجیے کہ سب“ یعنی نیکی اور برائی خیر اور شر ﴿ مِّنْعِنْدِاللّٰهِ ﴾”اللہ ہی کی طرف سے ہے۔“ یعنی سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے اور اسی کی تخلیق ہے ﴿ فَمَالِهٰۤؤُلَآءِالْقَوْمِ ﴾”انھیں کیا ہو گیا ہے؟“ یعنی جن لوگوں سے یہ باطل قول صادر ہوا ہے ﴿ لَایَكَادُوْنَیَفْقَهُوْنَحَدِیْثًا ﴾”کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے۔“ یعنی یہ لوگ بات کو بالکل ہی نہیں سمجھ پاتے اور نہ یہ لوگ سمجھنے کے قریب جاتے ہیں۔ یا یہ لوگ بات کو بہت ہی کم سمجھتے ہیں۔ مذکورہ تمام معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ ان کے عدم فہم اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام میں عدم تفقہ پر زجر و توبیخ ہے۔ اور اس کا سبب ان کا کفر اور روگردانی ہے۔
اس آیت کریمہ میں ضمناً ان لوگوں کی مدح کا پہلو نکلتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کا فہم رکھتے ہیں۔ نیز اس میں فہم اور اس کے اسباب کے حصول کی ترغیب ہے۔ یہ فہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے کلام میں تدبر و تفکر اور اس منزل تک پہنچانے والے راستوں پر گامزن ہونے ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو سمجھا ہوتا تو معلوم ہو جاتا کہ نیکی اور برائی اور خیر و شر سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے کوئی چیز باہر نہیں۔ نیز انبیاء و رسل اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کبھی بھی شر کا باعث نہیں ہوتیں کیونکہ وہ تو دین و دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لیے مبعوث کیے جاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أخبر أنه لا يُغني حذرٌ عن قدرٍ، وأنَّ القاعد لا يدفع عنه قعودُه شيئاً، فقال: {أينما تكونوا يدرككم الموتُ}؛ أي: في أيِّ زمان وأيِّ مكان. {ولو كنتُم في بروجٍ مُشَيَّدة}؛ أي: قصورٍ منيعةٍ ومنازل رفيعةٍ. وكلُّ هذا حثٌّ على الجهاد في سبيل الله؛ تارةً بالترغيب في فضلِهِ وثوابِهِ، وتارةً بالترهيبِ من عقوبةِ تركِهِ، وتارةً بالإخبارِ أنَّه لا ينفع القاعدين قعودُهم، وتارةً بتسهيل الطريق في ذلك وقصرها.
يخبر تعالى عن الذين لا يعلمونَ، المعرضينَ عمَّا جاءت به الرسلُ، المعارضين لهم أنَّهم إذا جاءتهم حسنةٌ؛ أي: خِصْبٌ وَكَثْرَةُ أموال وتوفُّر أولاد وصحة؛ قالوا: {هذه من عند الله}، وأنَّهم إن أصابتهم سيئةٌ؛ أي: جدبٌ وفقرٌ ومرضٌ وموتُ أولادٍ وأحبابٍ؛ قالوا: {هذه من عندك}؛ أي: بسبب ما جئتنا به يا محمد! تطيَّروا برسول الله - صلى الله عليه وسلم - كما تطيَّر أمثالُهم برسل الله؛ كما أخبر الله عن قوم فرعون أنهم: {إذا جاءتْهُمُ الحسنةُ قالوا لنا هذه وإن تُصِبْهم سيئةٌ يَطَّيَّروا بموسى ومن معهُ}، وقال قومُ صالح: {قالوا اطَّيَّرْنا بك وبَمن معكَ}، وقال قومُ يس لرسلهم: {إنَّا تطيَّرنا بكم لئن لم تَنتَهوا لَنَرْجُمَنَّكم ... } الآية، فلما تشابهتْ قلوبهم بالكفر؛ تشابهتْ أقوالهم وأفعالهم ، وهكذا كلُّ من نَسَبَ حصولَ الشَّرِّ أو زوالَ الخيرِ لما جاءت به الرُّسُل أو لبعضِهِ؛ فهو داخلٌ في هذا الذَّمِّ الوخيم. قال الله في جوابهم: {قل كلٌّ}؛ أي: من الحسنة والسيئة والخير والشر، {من عندِ الله}؛ أي: بقضائِهِ وقَدَرِهِ وخَلْقِهِ. {فمال هؤلاء القوم}؛ أي: الصادر منهم تلك المقالةُ الباطلة، {لا يكادونَ يفقهونَ حديثاً}؛ أي: لا يفهمون حديثاً بالكُلِّيَّة ولا يَقْرَبون من فهمِهِ أو لا يفهمون منه إلاَّ فهماً ضعيفاً. وعلى كلٍّ فهو ذمٌّ لهم وتوبيخ على عدم فهمهم وفقههم عن الله وعن رسوله، وذلك بسبب كفرهم وإعراضهم.
وفي ضمن ذلك مدح مَن يَفْهَمُ عن الله وعن رسوله، والحثُّ على ذلك وعلى الأسباب المعينة على ذلك من الإقبال على كلامِهِما، وتدبُّره وسلوك الطرق الموصلة إليه؛ فلو فَقِهوا عن الله؛ لعلموا أنَّ الخير والشرَّ والحسنات والسيئات كلَّها بقضاء الله وقَدَره، لا يخرج منها شيء عن ذلك، وأنَّ الرسل عليهم الصلاة والسلام لا يكونون سبباً لشرٍّ يحدُث. لا هم ولا ما جاؤوا به؛ لأنَّهم بُعِثوا بمصالح الدُّنيا والآخرة والدين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔