تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ …:} اوپر منافقین کی دو مذموم خصلتیں بتائیں، ایک جہاد سے جی چرانا دوسری موت سے ڈرنا، اب یہاں ان کی ایک اور مذموم خصلت کا ذکر فرمایا جو پہلی دونوں سے بری ہے، یعنی نحوست کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا۔ یہاں {”حَسَنَةٌ“} (بھلائی) سے مراد فتح، نصرت، غلبہ اور خوش حالی وغیرہ ہے اور {” سَيِّئَةٌ “} سے مراد لڑائی میں نقصان، مصیبت، قتل اور ہزیمت وغیرہ ہے۔
➌ {قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ:} یہ ان کے کلام کا جواب ہے کہ برائی اور بھلائی دونوں اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم سے ہیں، ہر چیز کا پیدا کرنے والا وہی ہے، بلا اور مصیبت کو کسی کی نحوست قرار دینا قطعی غلط اور پہلے کافروں کا طریقہ ہے، جیسا کہ قوم ثمود کا کہنا: «{ قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ }» [النمل: ۴۷]”انھوں نے کہا ہم نے تیرے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو تیرے ہمراہ ہیں، بد شگونی پکڑی ہے۔“ اور سورۂ یٰس میں ہے: «{ اِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ }» [یٰسٓ: ۱۸] ”بے شک ہم نے تمھیں منحوس پایا ہے۔“ اور فرعون کی قوم کے بارے میں ہے: «{ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ }» [الأعراف: ۱۳۱] ”اور اگر انھیں کوئی تکلیف پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں کے ساتھ نحوست پکڑتے۔“
شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ منافقوں کا ذکر ہے کہ اگر تدبیر جنگ درست آئی اور فتح اور غنیمت ملی توکہتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے ہوئی، یعنی اتفاقاً بن گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدبیر کے قائل نہ ہوتے تھے اور اگر بگڑ گئی تو الزام رکھتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تدبیر پر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سب اللہ کی طرف سے ہے، یعنی پیغمبر کی تدبیر اللہ کا الہام ہے، غلط نہیں اور اگر بگڑی تو اس کو بگڑا نہ بوجھو، یہ اللہ تم کو سدھاتا ہے تمھاری تقصیر پر۔ اگلی آیت میں کھول کر بیان فرما دیا۔“ (موضح)
➍ {فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ …:} یعنی تعجب ہے کہ کسی غور و فکر کے بغیر سمجھ میں آنے والی حقیقت بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ (رازی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ﴾ [37: 96]
اللہ نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور ان اعمال کو بھی جو تم کرتے ہو یعنی اگر فائدہ یا تکلیف کو اعمال ہی کا نتیجہ قرار دیا جائے تب بھی چونکہ تمہارے اعمال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے لہٰذا نفع و نقصان بھی اللہ ہی کی طرف سے ہوا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس کی ماں نے یہ حال دیکھ کر اپنی بچی کے پیٹ کو ٹانکے لگا دئیے اور علاج معالجہ شروع کیا جس سے اس کا زخم بھر گیا اب ایک زمانہ گزر گیا ادھر یہ لڑکی بلوغت کو پہنچ گئی اور تھی بھی اچھی شکل و صورت کی بدچلنی میں پڑگئی ادھر ملازم سمندر کے راستے کہیں چلا گیا کام کاج شروع کیا اور بہت رقم پیدا کی کل مال سمیٹ کر بہت مدت بعد یہ پھر اسی اپنے گاؤں میں آ گیا ایک بڑھیا عورت کو بلا کر کہا کہ میں نکاح کرنا چاہتا ہوں گاؤں میں جو بہت خوبصورت عورت ہو اس سے میرا نکاح کرا دو، یہ عورت گئی اور چونکہ شہر بھر میں اس لڑکی سے زیادہ خوش شکل کوئی عورت نہ تھی یہیں پیغام بھیجا، منظور ہو گیا، نکاح بھی ہو گیا اور وداع ہو کر یہ اس کے ہاں آ بھی گئی دونوں میاں بیوی میں بہت محبت ہو گئی۔
اس نے کہا کہ مجھے تیری نسبت ایک اور بات بھی معلوم ہے وہ یہ کہ تیری موت کا سبب ایک مکڑی بنے گی، خیر چونکہ مجھے تجھ سے بہت زیادہ محبت ہے میں تیرے لیے ایک بلند و بالا پختہ اور اعلیٰ محل تعمیر کرا دیتا ہوں اسی میں تو رہ تاکہ وہاں تک ایسے کیڑے مکوڑے پہنچ ہی نہ سکیں چنانچہ ایسا ہی محل تیار ہوا اور یہ وہاں رہنے سہنے لگی۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر جب باغی چڑھ دوڑے تو آپ نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خیر خواہی اور ان کے اتفاق کی دعا کے بعد دو شعر پڑھے جن کا مطلب بھی یہی ہے کہ موت کو ٹالنے والی کوئی چیز اور کوئی حیلہ کوئی قوت اور کوئی چالاکی نہیں، حضر کے بادشاہ ساطرون کو کسریٰ سابور ذوالا کتاف نے جس طرح قتل کیا وہ واقعہ بھی ہم یہاں لکھتے ہیں، ابن ہشام میں ہے جب سابور عراق میں تھا تو اس کے علاقہ یر ساطرون نے چڑھائی کی تھی اس کے بدلے میں جب اس نے چڑھائی کی تو یہ قلعہ بند ہو گیا دو سال تک محاصرہ رہا لیکن قلعہ فتح نہ ہو سکا۔
اس کا باپ ساطرون بڑا شرابی تھا اس کی ساری رات نشہ میں کٹتی تھی اس کی لڑکی نے موقعہ پا کر رات کو اپنے باپ کو نشہ میں مد ہوش دیکھ کر اس کے سرہانے سے قلعہ کے دروازے کی کنجیاں چپکے سے نکال لیں اور اپنے ایک با اعتماد غلام کے ہاتھ سابور تک پہنچا دیں جس سے اس نے دروازہ کھول لیا اور شہر میں قتل عام کرایا اور قابض ہو گیا یہ بھی کہا گیا کہ اس قلعہ میں ایک جادو تھا جب تک اس طلسم کو توڑا نہ جائے قلعہ کا فتح ہونا ناممکن تھا اس لڑکی نے اس کے توڑنے کا گر اسے بتا دیا کہ ایک چت کبرا کبوتر لے کر اس کے پاؤں کسی باکرہ کے پہلے حیض کے خون سے رنگ لو پھر اس کبوتر کو چھوڑو وہ جا کر قلعہ کی دیوار پر بیٹھے تو فوراً وہ طلسم ٹوٹ جائے گا اور قلعہ کا پھاٹک کھل جائے گا۔
سابور اس نزاکت پر حیران رہ گیا کہ ایک اتنی چھوٹی سی پتی بستر میں ہونے پر اسے نیند نہیں آئی؟ پوچھا تیرے والد کے ہاں تیرے لیے کیا ہوتا تھا؟ اس نے کہا نرم ریشم کا بسترا تھا صرف باریک نرم ریشمی لباس تھا صرف نلیوں کا گودا کھایا کرتی تھی اور صرف انگوری خالص شراب پیتی تھی۔ یہ انتظام میرے باپ نے میرے لیے کر رکھا تھا۔ یہ تھی بھی ایسی کہ اس کی پنڈلی کا گودا تک باہر سے نظر آتا تھا۔
ان باتوں سے سابور پر ایک اور رنگ چڑھا دیا اور اس نے کہا جس باپ نے تجھے اس طرح پالا پوسا اس کے ساتھ تو نے یہ سلوک کیا کہ میرے ہاتھوں اسے قتل کرایا اس کے مالک کو تاخت و تاراج کرایا پھر مجھے تجھ سے کیا امید رکھنی چاہیئے؟ اللہ جانے میرے ساتھ تو کیا کرے؟ اسی وقت حکم دیا کہ اس کے سر کے بال گھوڑے سے باندھ دیئے جائیں اور گھوڑے کو بیلگام چھوڑ دیا جائے، چنانچہ یہی ہوا گھوڑا بد کا بھاگا اچھلنے کودنے لگا اور اس کی ٹاپوں سے زمین پر پچھاڑیں کھاتے ہوئے اس کے جسم کا چورا چورا ہو گیا۔ چنانچہ اس واقعہ کو عرب شعراء نے نظم بھی کیا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أخبر أنه لا يُغني حذرٌ عن قدرٍ، وأنَّ القاعد لا يدفع عنه قعودُه شيئاً، فقال: {أينما تكونوا يدرككم الموتُ}؛ أي: في أيِّ زمان وأيِّ مكان. {ولو كنتُم في بروجٍ مُشَيَّدة}؛ أي: قصورٍ منيعةٍ ومنازل رفيعةٍ. وكلُّ هذا حثٌّ على الجهاد في سبيل الله؛ تارةً بالترغيب في فضلِهِ وثوابِهِ، وتارةً بالترهيبِ من عقوبةِ تركِهِ، وتارةً بالإخبارِ أنَّه لا ينفع القاعدين قعودُهم، وتارةً بتسهيل الطريق في ذلك وقصرها.
يخبر تعالى عن الذين لا يعلمونَ، المعرضينَ عمَّا جاءت به الرسلُ، المعارضين لهم أنَّهم إذا جاءتهم حسنةٌ؛ أي: خِصْبٌ وَكَثْرَةُ أموال وتوفُّر أولاد وصحة؛ قالوا: {هذه من عند الله}، وأنَّهم إن أصابتهم سيئةٌ؛ أي: جدبٌ وفقرٌ ومرضٌ وموتُ أولادٍ وأحبابٍ؛ قالوا: {هذه من عندك}؛ أي: بسبب ما جئتنا به يا محمد! تطيَّروا برسول الله - صلى الله عليه وسلم - كما تطيَّر أمثالُهم برسل الله؛ كما أخبر الله عن قوم فرعون أنهم: {إذا جاءتْهُمُ الحسنةُ قالوا لنا هذه وإن تُصِبْهم سيئةٌ يَطَّيَّروا بموسى ومن معهُ}، وقال قومُ صالح: {قالوا اطَّيَّرْنا بك وبَمن معكَ}، وقال قومُ يس لرسلهم: {إنَّا تطيَّرنا بكم لئن لم تَنتَهوا لَنَرْجُمَنَّكم ... } الآية، فلما تشابهتْ قلوبهم بالكفر؛ تشابهتْ أقوالهم وأفعالهم ، وهكذا كلُّ من نَسَبَ حصولَ الشَّرِّ أو زوالَ الخيرِ لما جاءت به الرُّسُل أو لبعضِهِ؛ فهو داخلٌ في هذا الذَّمِّ الوخيم. قال الله في جوابهم: {قل كلٌّ}؛ أي: من الحسنة والسيئة والخير والشر، {من عندِ الله}؛ أي: بقضائِهِ وقَدَرِهِ وخَلْقِهِ. {فمال هؤلاء القوم}؛ أي: الصادر منهم تلك المقالةُ الباطلة، {لا يكادونَ يفقهونَ حديثاً}؛ أي: لا يفهمون حديثاً بالكُلِّيَّة ولا يَقْرَبون من فهمِهِ أو لا يفهمون منه إلاَّ فهماً ضعيفاً. وعلى كلٍّ فهو ذمٌّ لهم وتوبيخ على عدم فهمهم وفقههم عن الله وعن رسوله، وذلك بسبب كفرهم وإعراضهم.
وفي ضمن ذلك مدح مَن يَفْهَمُ عن الله وعن رسوله، والحثُّ على ذلك وعلى الأسباب المعينة على ذلك من الإقبال على كلامِهِما، وتدبُّره وسلوك الطرق الموصلة إليه؛ فلو فَقِهوا عن الله؛ لعلموا أنَّ الخير والشرَّ والحسنات والسيئات كلَّها بقضاء الله وقَدَره، لا يخرج منها شيء عن ذلك، وأنَّ الرسل عليهم الصلاة والسلام لا يكونون سبباً لشرٍّ يحدُث. لا هم ولا ما جاؤوا به؛ لأنَّهم بُعِثوا بمصالح الدُّنيا والآخرة والدين.