تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 56

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِیۡہِمۡ نَارًا ؕ کُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُہُمۡ بَدَّلۡنٰہُمۡ جُلُوۡدًا غَیۡرَہَا لِیَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۵۶﴾
بے شک جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا ہم انھیں عنقریب ایک سخت آگ میں جھونکیں گے، جب بھی ان کی کھالیں گل سڑ جائیں گی ہم انھیں ان کے علاوہ اور کھالیں بدل دیں گے، تاکہ وہ عذاب چکھیں، بے شک اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ان کو ہم عنقریب آگ میں داخل کریں گے جب ان کی کھالیں گل (اور جل) جائیں گی تو ہم اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ (ہمیشہ) عذاب (کا مزہ چکھتے) رہیں بےشک خدا غالب حکمت والا ہے
En
جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا، انہیں ہم یقیناً آگ میں ڈال دیں گے جب ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وه عذاب چکھتے رہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ غالب حکمت واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنابریں اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا انھیں ہم یقینا آگ میں ڈال دیں گے یعنی ہم ان کو ایسی آگ میں جھونکیں گے جو ایندھن کے لحاظ سے بہت بڑی اور حرارت کے لحاظ سے بہت شدید ہو گی ﴿ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ جب ان کی جلد جل جائے گی۔ ﴿ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں تاکہ عذاب ان کے جسم کے ہر مقام تک پہنچ جائے۔
چونکہ وہ کفر اور عناد کا بار بار مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ کفر اور عناد ان کا وصف اور عادت بن گیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالی ان کو بار بار عذاب کا مزا چکھائے گا تاکہ ان کو پورا پورا بدلہ مل جائے۔ اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا یقینا اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے یعنی اللہ تعالی عظیم غلبے کا مالک ہے، اس کی تخلیق، اس کے امر اور اس کے ثواب و عقاب میں اس کی حکمت جاری و ساری ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {إنَّ الذين كفروا بآياتِنا سوفَ نُصليهم ناراً}؛ أي: عظيمة الوَقود شديدة الحرارة، {كلَّما نَضِجَتْ جلودُهم}؛ أي: احترقت، {بدَّلْناهم جلوداً غيرَها لِيَذوقوا العذابَ}؛ أي: ليبلغ العذابُ منهُم كلَّ مبلغ، وكما تكرَّرَ منهم الكفرُ والعنادُ؛ وصار وصفاً لهم وسجيَّةً؛ كرَّر عليهم العذاب جزاء وفاقاً، ولهذا قال: {إنَّ الله كان عزيزاً حكيماً}؛ أي: له العزَّة العظيمة والحكمة في خلقه وأمره وثوابِهِ وعقابِهِ.