تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 55

فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ بِہٖ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ صَدَّ عَنۡہُ ؕ وَ کَفٰی بِجَہَنَّمَ سَعِیۡرًا ﴿۵۵﴾
پھر ان میں سے کوئی وہ ہے جو اس پر ایمان لے آیا اور کوئی وہ ہے جو اس سے منہ موڑ گیا اور جلانے کے لیے جہنم ہی کافی ہے۔ En
پھر لوگوں میں سے کسی نے تو اس کتاب کو مانا اور کوئی اس سے رکا (اور ہٹا) رہا تو نہ ماننے والوں (کے جلانے) کو دوزخ کی جلتی ہوئی آگ کافی ہے
En
پھر ان میں سے بعض نے تو اس کتاب کو مانا اور بعض اس سے رک گئے، اور جہنم کا جلانا کافی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ پھر ان میں سے بعض اس پر ایمان لائے۔ یعنی ان میں سے بعض لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔ اس لیے وہ دنیاوی خوش بختی اور اخروی فلاح سے بہرہ ور ہوئے ﴿ وَمِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ اور ان میں سے بعض نے محض عناد، بغاوت اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے کے لیے اس سے اعراض کیا اس لیے وہ دنیا میں بدبختی اور مصائب کا شکار ہو گئے۔ جو ان کے گناہوں کے اثرات ہیں۔ ﴿ وَكَ٘فٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا اور (ان کے لیے) دہکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے یہ آگ یہود و نصاریٰ اور دیگر اقسام کے کفار پر بھڑکائی جائے گی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا اور اس کے انبیاء علیہم السلام کا انکار کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فمنهم من آمن به}؛ أي: بمحمدٍ - صلى الله عليه وسلم - فنال بذلك السعادة الدنيويَّة والفلاح الأخرويَّ، {ومنهم من صدَّ عنه}؛ عناداً وبغياً وحسدًا، فحصل لهم من شقاء الدُّنيا ومصائبها ما هو بعض آثار معاصيهم، {وكفى بجهنَّم سعيراً}: تُسَعَّرُ على مَن كَفَرَ بالله، وجَحَدَ نبوَّة أنبيائِهِ من اليهود والنصارى وغيرِهم من أصناف الكَفَرة.