تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَمِنْهُمْمَّنْاٰمَنَبِهٖ ﴾”پھر ان میں سے بعض اس پر ایمان لائے۔“ یعنی ان میں سے بعض لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔ اس لیے وہ دنیاوی خوش بختی اور اخروی فلاح سے بہرہ ور ہوئے ﴿ وَمِنْهُمْمَّنْصَدَّعَنْهُ ﴾ اور ان میں سے بعض نے محض عناد، بغاوت اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے کے لیے اس سے اعراض کیا اس لیے وہ دنیا میں بدبختی اور مصائب کا شکار ہو گئے۔ جو ان کے گناہوں کے اثرات ہیں۔ ﴿ وَكَ٘فٰىبِجَهَنَّمَسَعِیْرًا﴾”اور (ان کے لیے) دہکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے“ یہ آگ یہود و نصاریٰ اور دیگر اقسام کے کفار پر بھڑکائی جائے گی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا اور اس کے انبیاء علیہم السلام کا انکار کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فمنهم من آمن به}؛ أي: بمحمدٍ - صلى الله عليه وسلم - فنال بذلك السعادة الدنيويَّة والفلاح الأخرويَّ، {ومنهم من صدَّ عنه}؛ عناداً وبغياً وحسدًا، فحصل لهم من شقاء الدُّنيا ومصائبها ما هو بعض آثار معاصيهم، {وكفى بجهنَّم سعيراً}: تُسَعَّرُ على مَن كَفَرَ بالله، وجَحَدَ نبوَّة أنبيائِهِ من اليهود والنصارى وغيرِهم من أصناف الكَفَرة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔