تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 45

وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِاَعۡدَآئِکُمۡ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَلِیًّا ٭۫ وَّ کَفٰی بِاللّٰہِ نَصِیۡرًا ﴿۴۵﴾
اور اللہ تمھارے دشمنوں کو زیادہ جاننے والا ہے اور اللہ کافی دوست ہے اور اللہ کافی مددگار ہے۔ En
اور خدا تمہارے دشمنوں سے خوب واقف ہے اور خدا ہی کافی کارساز ہے اور کافی مددگار ہے
En
اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو خوب جاننے واﻻ ہے اور اللہ تعالیٰ کا دوست ہونا کافی ہے اور اللہ تعالیٰ کا مددگار ہونا بس ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے فرمایا ﴿ وَؔ كَ٘فٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا اللہ ہی کافی کارساز ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمام امور میں اپنے لطف و کرم کی وجہ سے اپنے بندوں کے تمام احوال میں ان کی سرپرستی فرماتا ہے اور ان کے لیے سعادت اور فلاح کی راہوں کو آسان کرتا ہے ﴿ وَّكَ٘فٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا اللہ ہی کافی مددگار ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ان کے دشمنوں کے خلاف مدد عطا کرتا ہے اور ان کے سامنے واضح کرتا ہے کہ انھیں کن لوگوں سے بچنا چاہیے وہ ان کے خلاف ان کی مدد کرتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کی ولایت اور سرپرستی میں خیر کا حصول اور اس کی نصرت میں شر کا زوال ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {وكفى بالله وليًّا}؛ أي: يتولَّى أحوال عباده، ويلطف بهم في جميع أمورهم، وييسِّر لهم ما به سعادتهم وفلاحهم، {وكفى بالله نصيراً}: ينصرُهُم على أعدائهم، ويبيِّن لهم ما يحذَرون منهم، ويعينُهم عليهم؛ فولايتُهُ تعالى فيها حصول الخير، ونصرُهُ فيه زوال الشرِّ.