تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 44

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ یَشۡتَرُوۡنَ الضَّلٰلَۃَ وَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَضِلُّوا السَّبِیۡلَ ﴿ؕ۴۴﴾
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا، وہ گمراہی کو خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم راستے سے بھٹک جاؤ۔ En
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا تھا کہ وہ گمراہی کو خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی رستے سے بھٹک جاؤ
En
کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا؟ جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا ہے، وه گمراہی خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راه سے بھٹک جاؤ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کی مذمت ہے جنھیں کتاب عطا کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے کہ وہ ان کی وجہ سے دھوکے میں نہ پڑیں اور ان کا ساتھی بننے سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بابت آگاہ فرمایا کہ وہ اپنے بارے میں ﴿ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰ٘لَةَ گمراہی خریدتے ہیں یعنی گمراہی سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور اسے ترجیح دیتے ہیں جیسے کوئی شخص اپنی محبوب چیز کی طلب میں مال کثیر خرچ کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ پس یہ لوگ ہدایت پر گمراہی کو، ایمان پر کفر کو اور سعادت پر شقاوت کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ وَیُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَ وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی راستہ گم کر لو۔ پس وہ تمھیں گمراہ کرنے کے بے حد خواہش مند ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کا ولی اور مددگار ہے اس لیے ان کے سامنے ان کفار کی گمراہی اور ان کی دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کو کھول کھول کر بیان کیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا ذمٌّ لمن {أوتوا نصيباً من الكتاب}، وفي ضمنه تحذيرُ عبادِهِ عن الاغترار بهم والوقوع في أشراكهم، فأخبر أنهم في أنفسهم {يشترون الضلالة}؛ أي: يحبُّونها محبةً عظيمةً ويؤثِرونها إيثار مَن يبذُلُ المال الكثير في طلب ما يحبُّه، فيؤثرون الضلال على الهدى والكفر على الإيمان والشقاء على السعادة، ومع هذا {يريدونَ أن تَضِلُّوا السبيل}؛ فهم حريصون على إضلالِكُم غايةَ الحرص، باذِلون جهدَهم في ذلك، ولكن لما كان الله وليَّ عباده المؤمنين وناصرهم؛ بيَّن لهم ما اشتملوا عليه من الضلال والإضلال.