تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 3

وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تُقۡسِطُوۡا فِی الۡیَتٰمٰی فَانۡکِحُوۡا مَا طَابَ لَکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ ۚ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَۃً اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَلَّا تَعُوۡلُوۡا ؕ﴿۳﴾
اور اگر تم ڈروکہ یتیموں کے حق میں انصاف نہیں کرو گے تو (اور) عورتوں میں سے جو تمھیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو، دو دو سے اور تین تین سے اور چار چار سے، پھر اگر تم ڈرو کہ عدل نہیں کرو گے تو ایک بیوی سے، یا جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہوں (یعنی لونڈیاں)۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ تم انصاف سے نہ ہٹو۔ En
اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارےانصاف نہ کرسکوگے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے
En
اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی یہ زیاده قریب ہے، کہ (ایسا کرنے سے ناانصافی اور) ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اگر تمھیں اس بات کا خدشہ ہے کہ تم ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے جو تمھاری پرورش اور سرپرستی میں ہیں اور تمھیں ڈر ہے کہ ان کے ساتھ تمھاری محبت نہ ہونے کی وجہ سے تم ان کے حقوق ادا نہ کر سکو گے۔ تو تم ان کے علاوہ دوسری عورتوں کے ساتھ نکاح کر لو ﴿ مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اور عورتوں میں سے جو تمھیں اچھی لگیں یعنی، دین، مال، حسب و نسب اور حسن و جمال جیسی دیگر صفات جو نکاح کی ترغیب دیتی ہیں، ان صفات کی حامل عورتوں میں جس کے ساتھ نکاح کرنے کا اختیار حاصل ہو، اپنی خواہش اور صوابدید کے مطابق نکاح کر لو۔ نکاح کے انتخاب کے لیے بہترین صفت دین ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت سے چار صفات کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے، اس کے مال، اس کے حسن و جمال، اس کے حسب و نسب اور اس کے دین کی وجہ سے، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، تو دین دار عورت سے نکاح کرنے کی کوشش کر۔
اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ نکاح سے قبل عورت کو منتخب کر لے۔ بلکہ شارع نے تو یہاں تک مباح کیا ہے کہ انسان جس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے اسے ایک نظر دیکھ لے تاکہ یہ نکاح بصیرت کی بنیاد پر ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی تعداد کا ذکر کیا ہے جن کے ساتھ نکاح کرنا مباح ہے چنانچہ فرمایا: ﴿ مَثْ٘نٰى وَثُلٰ٘ثَ وَرُبٰ٘عَ دو دو اور تین تین اور چار چار یعنی جو کوئی دو بیویاں رکھنا چاہتا ہے وہ دو بیویاں رکھ لے اگر تین بیویوں سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو تین سے نکاح کر لے اور اگر چار سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو چار سے نکاح کر لے۔ البتہ چار سے زیادہ عورتوں سے نکاح نہ کرے۔ کیونکہ آیت کریمہ کا سیاق اللہ تعالیٰ کے احسان کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو عدد مقرر کر دیا ہے بالاتفاق اس سے زیادہ بیویاں جائز نہیں۔ ایک سے زیادہ بیوی کی اجازت کی وجہ یہ ہے کہ بسا اوقات مرد کی شہوت ایک بیوی سے پوری نہیں ہوتی اس لیے یکے بعد دیگرے چار بیویاں جائز ہیں کیونکہ شاذ اور نادر صورت کے سوا، چار بیویاں کافی ہوتی ہیں۔ یہ چار بیویاں بھی مرد کے لیے صرف اس وقت جائز ہیں جب وہ ظلم و جور کرنے سے محفوظ ہو اور اسے یقین ہو کہ وہ چار بیویوں کے حقوق پورے کر سکے گا اور اگر اسے ظلم و زیادتی اور حقوق کی عدم ادائیگی کا خدشہ ہو تو اسے صرف ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنا چاہیے۔ یا اس کے ساتھ لونڈیوں پر اکتفا کرے۔ لونڈیوں میں وظیفہ زن و شو کی مساوی تقسیم واجب نہیں۔
﴿ ذٰلِكَ یہیعنی ایک بیوی یا لونڈیوں پر اکتفا کرنا ﴿ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْا اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ تم ظلم نہ کرو۔ اس آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر بندے کو کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جہاں اس سے ظلم و جور کے ارتکاب کا خدشہ ہو اور اسے اس بات کا خوف ہو کہ وہ اس معاملے کے حقوق پورے نہیں کر سکے گا۔ خواہ یہ معاملہ مباحات کے زمرے میں کیوں نہ آتا ہو تو اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اس معاملے میں کوئی تعرض کرے۔ بلکہ وہ اس میں بچاؤ اور عافیت کا التزام کرے۔ کیونکہ عافیت بہترین چیز ہے جو بندے کو عطا کی گئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: وإن خفتم ألا تعدلوا في يتامى النساء [اللاتي] تحت حُجوركم وولايتكم، وخفتم أن لا تقوموا بحقِّهن لعدم محبتكم إياهنَّ، فاعدلوا إلى غيرهنَّ وانكحوا {ما طاب لكم من النساء}؛ أي: ما وقع عليهن اختياركم من ذوات الدين والمال والجمال والحَسَب والنَّسَب وغير ذلك من الصفات الداعية لنكاحهنَّ؛ فاختاروا على نظركم، ومن أحسن ما يُختار من ذلك صفة الدين؛ كما قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: «تُنْكَحُ المرأةُ لأربع: لمالِها ولِجمالِها ولحسبِها ولدينِها؛ فاظفرْ بذاتِ الدينِ تَرِبَتْ يمينُك». وفي هذه الآية أنه ينبغي للإنسان أن يختار قبل النكاح، بل قد أباح له الشارعُ النظرَ إلى مَنْ يريد تزوجها؛ ليكون على بصيرة من أمره.

ثم ذكر العدد الذي أباحه من النساء، فقال: {مثنى وثلاث ورباع}، أي: من أحب أن يأخذ ثنتين؛ فليفعل، أو ثلاثاً؛ فليفعل، أو أربعاً؛ فليفعل، ولا يزيد عليها؛ لأن الآية سيقت لبيان الامتنان؛ فلا يجوز الزيادة على غير ما سمى الله تعالى إجماعاً، وذلك لأن الرجل قد لا تندفع شهوتُه بالواحدة، فأبيح له واحدة بعد واحدة، حتى تبلغ أربعاً؛ لأن في الأربع غُنيةً لكل أحد إلا ما ندر، ومع هذا؛ فإنما يباح له ذلك إذا أمن على نفسه الجَوْر والظلم ووثق بالقيام بحقوقهن؛ فإن خاف شيئاً من هذا؛ فليقتصر على واحدة أو على ملك يمينه؛ فإنه لا يجب عليه القَسْم في ملك اليمين، {ذلك}؛ أي: الاقتصار على واحدة أو ما ملكتِ اليمينُ {أدنى ألاَّ تعولوا}؛ أي: تظلموا، وفي هذا أنَّ تعرَّضَ العبد للأمر الذي يُخافُ منه الجورُ والظلم وعدم القيام بالواجب ولو كان مباحاً؛ أنه لا ينبغي له أن يتعرَّضَ له، بل يلزم السعةُ والعافيةُ؛ فإنَّ العافية خير ما أعطي العبد.