اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور گندی چیز کو اچھی چیز کے عوض بدل کر نہ لو اور نہ ان کے اموال اپنے مالوں سے ملا کر کھائو، یقینا یہ ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔
En
اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو۔ اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ۔ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے
اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور پاک اور حلال چیز کے بدلے ناپاک اور حرام چیز نہ لو، اور اپنے مالوں کے ساتھ ان کے مال ملا کر کھا نہ جاؤ، بے شک یہ بہت بڑا گناه ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس سورۂ مبارکہ میں جن حقوق العباد کی تاکید کی گئی ہے، یہ ان میں سے پہلا حکم ہے اور وہ یتیم بچے ہیں جن کے باپ فوت ہو گئے ہیں جو ان کی کفالت کیا کرتے تھے۔ وہ بہت چھوٹے اور نہایت کمزور ہیں اپنے مصالح کی خود دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔ بنابریں اللہ رؤف و رحیم نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ان یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ ان کے مال کے قریب نہ جائیں مگر بھلے طریقے سے۔ اور جب یہ بالغ اور سمجھ دار ہو جائیں تو ان کا پورے کا پورا مال ان کے حوالے کر دیں۔ ﴿ وَلَاتَتَبَدَّلُواالْخَبِیْثَ ﴾”اور بدل نہ لو خبیث مال کو“ خبیث سے مراد ناحق یتیم کا مال کھانا ہے ﴿ بِالطَّيِّبِ ﴾ طیب مال سے مراد حلال مال ہے جس میں کوئی حرج ہے نہ تاوان ﴿ وَلَاتَاْكُلُوْۤااَمْوَالَهُمْاِلٰۤىاَمْوَالِكُمْ ﴾ یعنی ”تم اپنے اموال کے ساتھ ان کے اموال نہ کھاؤ۔“
اس آیت کریمہ میں یتیموں کا مال کھانے کی قباحت پر دلیل ہے۔ اس حال میں جبکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے خود اس کے مال میں رزق عطا کیا ہوتا ہے اور وہ اپنے مال کی وجہ سے یتیم کے مال سے مستغنی ہوتا ہے اور جو کوئی اس حال میں یتیم کا مال کھانے کی جرأت کرتا ہے تو وہ بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے ﴿حُوْبً٘اكَبِیْرًا ﴾ یعنی گناہ عظیم اور بہت بڑا بوجھ۔
خبیث کو طیب سے بدلنا یہ ہے کہ یتیم کا سرپرست یتیم کا نفیس مال خود رکھ لے اور اس کے بدلے میں اپنا گھٹیا مال یتیم کو دے دے۔ اس آیت کریمہ میں یتیم کی سرپرستی کی دلیل ہے۔ کیونکہ یتیم کو اس کا مال حوالے کرنے والے کی سرپرستی ثابت ہوتی ہے۔ اس میں اس بات کا بھی حکم ہے کہ یتیم کے مال کی اصلاح کی جائے کیونکہ یتیم کو اس کا پورا مال حوالے کرنے کے حکم میں ازخود یہ بات آ جاتی ہے کہ اس مال کی حفاظت کی جائے، اس کی اصلاح اور نشوونما کا انتظام کیا جائے اور اس کو تلف ہونے کے خطرات سے بچایا جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا أول ما أوصى به من حقوق الخلق في هذه السورة، وهم اليتامى الذين فقدوا آباءهم الكافلين لهم، وهم صغارٌ ضعافٌ، لا يقومون بمصالحهم، فأمر الرءوف الرحيم عباده أن يحسِنوا إليهم، وأن لا يَقْرَبوا أموالهم إلا بالتي هي أحسن، وأن يؤتوهم أموالهم ـ إذا بلغوا ورَشَدوا ـ كاملةً موفرةً، وأن لا يتبدلوا الخبيث الذي هو أكلُ مال اليتيم بغير حقٍّ {بالطيب} وهو الحلال الذي ما فيه حرجٌ ولا تَبِعة {ولا تأكلوا أموالهم إلى أموالكم}؛ أي: مع أموالكم، ففيه تنبيهٌ لقبح أكل مالِهم بهذه الحالة، التي هي قد استغنى بها الإنسان بما جعل الله له من الرزق في ماله؛ فمَنْ تجرَّأ على هذه الحالة؛ فقد أتى {حوباً كبيراً}؛ أي: إثماً عظيماً ووزراً جسيماً.
ومن استبدال الخبيث بالطيِّب أن يأخذ الوليُّ من مال اليتيم النفيسِ ويجعلَ بدلَه من ماله الخسيسَ.
وفيه الولايةُ على اليتيم؛ لأنَّ من لازم إيتاء اليتيم ماله ثبوتَ ولاية المؤتي على ماله. وفيه الأمرُ بإصلاح مال اليتيم؛ لأنَّ تمام إيتائِهِ مالَه حفظُه والقيامُ به بما يصلحه ويُنَمِّيه وعدم تعريضه للمخاوف والأخطار.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔