مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور اصلاح کرلی اور اللہ کو مضبوطی سے تھام لیا اور اپنا دین اللہ کے لیے خالص کر لیا تو یہ لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ مومنوں کو جلد ہی بہت بڑا اجر دے گا۔
En
ہاں جنہوں نے توبہ کی اور اپنی حالت کو درست کیا اور خدا (کی رسی) کو مضبوط پکڑا اور خاص خدا کے فرمانبردار ہوگئے تو ایسے لوگ مومنوں کے زمرے میں ہوں گے اور خدا عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب دے گا
ہاں جو توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھیں اور خالص اللہ ہی کے لئے دینداری کریں تو یہ لوگ مومنوں کے ساتھ ہیں، اللہ تعالیٰ مومنوں کو بہت بڑا اجر دے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ عذاب ہر منافق کے لیے عام ہے سوائے ان کے جن کو اللہ تعالیٰ گناہوں سے توبہ کی توفیق سے نواز دے ﴿ وَاَصْلَحُوْا ﴾”اور وہ (اپنے ظاہر و باطن کی) اصلاح کر لیں۔“﴿ وَاعْتَصَمُوْابِاللّٰهِ ﴾”اور اللہ (کی رسی) کو مضبوط پکڑلیں۔“ اپنے منافع کے حصول اور ضرر کے دفعیہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر لیں ﴿ وَاَخْلَصُوْادِیْنَهُمْ ﴾”اور اپنے دین کو خالص کر لیں“ یہاں دین سے مراد اسلام، ایمان اور احسان ہے ﴿ لِلّٰهِ ﴾”اللہ کے لیے“ یعنی ظاہری اور باطنی اعمال میں ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو نیز ریا اور نفاق سے بچے ہوئے ہوں۔ جو لوگ ان صفات سے متصف ہوں گے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَمَعَالْ٘مُؤْمِنِیْنَ﴾ وہی دنیا، برزخ اور آخرت میں اہل ایمان کے ساتھ ہوں گے ﴿ وَسَوْفَیُؤْتِاللّٰهُالْ٘مُؤْمِنِیْنَاَجْرًاعَظِیْمًا ﴾”اور اللہ عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب دے گا۔“ اللہ تعالیٰ عنقریب اہل ایمان کو ایسے اجر سے نوازے گا جس کی حقیقت و ماہیت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں اس کے تصور کا گزر ہوا ہے۔
غور کیجیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ”اعتصام باللہ“ اور ”اخلاص“ کا خاص طور پر ذکر کیا ہے حالانکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ارشاد (وَاَصْلَحُوْا) میں داخل ہیں کیونکہ ”اِعْتِصَامبِاللہِ“ اور ”اِخْلَاص“ اصلاح کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصلاح میں ان دو امور کی سخت ضرورت ہے۔ خاص طورپر یہ مقام حرج جہاں دلوں میں نفاق جڑ پکڑ لیتا ہے.... اور نفاق کو صرف اعتصام باللہ، اللہ کے پاس پناہ لینے، اور اس کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی حاجت پیش کر کے ہی زائل کیا جا سکتا ہے اخلاص ہر لحاظ سے پوری طرح نفاق کے منافی ہے۔ اخلاص اور اعتصام کی فضیلت کی بنا پر ان کا تذکرہ کیا ہے، تمام ظاہری اور باطنی اعمال کا دار و مدار انھی دو امور پر ہے کیونکہ اس مقام پر ان دونوں امور کی سخت حاجت ہوتی ہے۔ اس امر پر بھی غور کیجیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ان کا ذکر کیا تو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اس نے یہ نہیں فرمایا (وَسَوْفَیُؤْتِیْھِمْاَجْرًاعَظِیْمًا) بلکہ فرمایا ﴿ وَسَوْفَیُؤْتِاللّٰهُالْ٘مُؤْمِنِیْنَاَجْرًاعَظِیْمًا ﴾
اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدۂ شریف ہے جس کا وہ ہمیشہ اعادہ کرتا رہا ہے کہ جب کلام کا سیاق بعض جزئیات کے بارے میں ہو اور اللہ تعالیٰ ان جزئیات پر ثواب یا عقاب مرتب کرنا چاہتا ہو اور جس جنس میں یہ جزئیات داخل ہیں عذاب یا عقاب ان میں مشترک ہو۔ تو وہ عام حکم کے مقابلہ میں، جس کے تحت یہ قضیہ مندرج ہے ثواب مرتب کرتا ہے تاکہ اس جزوی امر کے ساتھ حکم کا اختصاص متوہم نہ ہو یہ قرآن کریم کے اسرار و بدائع ہیں۔ پس منافقین میں سے اپنے نفاق سے توبہ کرنے والا شخص اہل ایمان کے ساتھ ہو گا اور اسے بھی اہل ایمان والا ثواب ملے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا عامٌّ لكل منافق؛ إلاَّ مَن مَنَّ الله عليهم بالتوبة من السيئات. {وأصلحوا}: له الظواهر والبواطن. واعتصموا به والتجؤوا إليه في جلب منافعهم ودفع المضار عنهم، {وأخلصوا دينهم}: الذي هو الإسلامُ والإيمان والإحسان {لله}: فقصدوا وجهَ الله بأعمالهم الظاهرة والباطنة، وسلِموا من الرياء والنفاق؛ فمن اتَّصف بهذه الصفات {فأولئك مع المؤمنين}؛ أي: في الدُّنيا والبرزخ ويوم القيامة، {وسوف يؤت الله المؤمنينَ أجراً عظيماً}: لا يعلمُ كُنْهَهُ إلا الله، مما لا عينٌ رأت ولا أذنٌ سمعت ولا خطر على قلب بشر. وتأمَّل كيف خصَّ الاعتصام والإخلاص بالذِّكر مع دخولهما في قوله: {وأصلحوا}؛ لأنَّ الاعتصام والإخلاص من جملة الإصلاح؛ لشدَّة الحاجة إليهما، خصوصاً في هذا المقام الحرج، الذي تمكَّن من القلوبِ النفاقُ، فلا يزيله إلاَّ شدة الاعتصام بالله ودوام اللجأ والافتقار إليه في دفعه، وكون الإخلاص منافٍ كل المنافاة للنفاق، فذكرهما لفضلِهما وتوقُّف الأعمال الظاهرة والباطنة عليهما ولشدَّة الحاجة في هذا المقام إليهما.
وتأمَّل كيف لما ذكر أنَّ هؤلاء مع المؤمنين؛ لم يقل: وسوف يؤتيهم أجراً عظيماً، مع أن السياق فيهم، بل قال: {وسوف يؤتي الله المؤمنين أجراً عظيماً}؛ لأنَّ هذه القاعدة الشريفة لم يزل الله يبدئ فيها ويعيد إذا كان السياق في بعض الجزئيات، وأراد أن يترتب عليه ثواباً أو عقاباً، وكان ذلك مشتركاً بينه وبين الجنس الداخل فيه؛ رتَّب الثواب في مقابلة الحكم العام الذي تندرج تحته تلك القضية وغيرها، ولئلاَّ يُتَوَهَّم اختصاصُ الحكم بالأمرِ الجزئيِّ؛ فهذا من أسرار القرآن البديعة؛ فالتائبُ من المنافقين مع المؤمنين وله ثوابُهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔