تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 145

اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ فِی الدَّرۡکِ الۡاَسۡفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ وَ لَنۡ تَجِدَ لَہُمۡ نَصِیۡرًا ﴿۱۴۵﴾ۙ
بے شک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے اور تو ہرگز ان کا کوئی مدد گار نہ پائے گا۔ En
کچھ شک نہیں کہ منافق لوگ دوزخ کے سب سے نیچے کے درجے میں ہوں گے۔ اور تم ان کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے
En
منافق تو یقیناً جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے، ناممکن ہے کہ تو ان کا کوئی مددگار پالے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے انجام کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں بدترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ وہ تمام کفار کے نیچے ہوں گے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت میں کفار کے ساتھ شریک تھے مزید برآں وہ مکر و فریب اور اہل ایمان کے ساتھ مختلف اقسام کی عداوت رکھتے تھے اور یہ عداوت اس طرح رکھتے تھے کہ وہ محسوس نہیں ہوتی تھی بنابریں ان پر اسلام کے احکام جاری ہوتے تھے اور اس بنیاد پر وہ اپنا استحقاق ظاہر کرتے تھے حالانکہ وہ اس کے مستحق نہ تھے۔ پس اس قسم کے مکرو فریب اور ہتھکنڈوں کی بنا پر سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ کوئی ہستی ان کو اس عذاب سے بچا سکے گی نہ کوئی مددگار اس عذاب کو ان سے دور کر سکے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبرُ تعالى عن مآل المنافقين أنَّهم في أسفل الدَّرَكات من العذاب وأشرِّ الحالات من العقاب؛ فهم تحت سائر الكفار؛ لأنَّهم شاركوهم بالكفرِ بالله ومعاداة رسله، وزادوا عليهم المكرَ والخديعةَ والتمكُّن من كثير من أنواع العداوة للمؤمنين على وجه لا يُشْعَرُ به ولا يحسُّ، ورتَّبوا على ذلك جريان أحكام الإسلام عليهم واستحقاق ما لا يستحقُّونه؛ فبذلك ونحوه استحقُّوا أشدَّ العذاب، وليس لهم منقذ من عذابه ولا ناصرٌ يدفع عنهم بعض عقابه.