اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، عنقریب ہم انھیں ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے ہمیشہ۔ اللہ کا وعدہ ہے سچا اور اللہ سے زیادہ بات میں کون سچا ہے۔
En
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ ابدالآباد ان میں رہیں گے۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے
اور جو ایمان ﻻئیں اور بھلے کام کریں ہم انہیں ان جنتوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے چشمے جاری ہیں، جہاں یہ ابداﻻباد رہیں گے، یہ ہے اللہ کا وعده جو سراسر سچا ہے اور کون ہے جو اپنی بات میں اللہ سے زیاده سچا ہو؟
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر علم، تصدیق اور اقرار کے ساتھ اس طرح ایمان لائیں جس طرح ان کو حکم دیا گیا ہے۔ ﴿ وَعَمِلُواالصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾”اور نیک کام کرتے رہے۔“ یعنی وہ اعمال جو ایمان سے جنم لیتے ہیں اور یہ تمام مامورات کو شامل ہے، چاہے وہ فرض ہوں یا مستحب، ان کا تعلق اعمال قلب سے ہو، اعمال لسان سے ہو اور بقیہ اعمال جوارح سے۔ ہر شخص کے لیے اس کے حال و مقام، اس کے ایمان اور عمل صالح کی تکمیل کے مطابق ثواب مرتب ہوتا ہے۔ ایمان و عمل میں جو کوتاہی واقع ہوتی ہے اس پر مترتب ہونے والا ثواب اس کی تلافی کر دیتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کے مطابق ہوتا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا سچا وعدہ ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تتبع سے معلوم کیا جاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس پر مترتب ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ سَنُدْخِلُهُمْجَنّٰتٍتَجْرِیْمِنْتَحْتِهَاالْاَنْ٘هٰرُ ﴾”ہم انھیں ان باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں“ جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جن کو اس سے پہلے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کس بشر کے دل میں ان کے تصور کا گزر ہوا ہے۔ جنت میں مختلف انواع کے ماکولات، لذیذ قسم کے مشروبات، دلکش نظارے، حسین و جمیل بیویاں، خوبصورت محل، آراستہ کیے ہوئے بالا خانے، پھل سے لدے ہوئے درخت، عجیب و غریب میوے، مسحور کن آوازیں، وافر نعمتیں، دوستوں کی مجلسیں اور جنت کے باغات میں اپنی یادوں کے تذکرے اور سب کچھ ہو گا۔
ان سب سے اعلیٰ اور جلیل ترین نعمت جو جنت میں عطا ہو گی وہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا، روح کا اس کے قرب سے فیض یاب ہونا، آنکھوں سے اس کا دیدار کرنا اور کانوں سے اس کے خطاب کو سننا۔ یہ نعمت بندے کو ہر نعمت و مسرت فراموش کرا دے گی۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثبات و استقامت عطا نہ کی گئی ہو تو بندے خوشی سے اڑ جائیں اور فرحت و مسرت سے مر جائیں۔
اللہ اللہ! کتنی شیریں ہو گی یہ نعمت اورکتنے بلند مرتبہ ہوں گے وہ انعامات جو رب کریم ان کو عطا کرے گا اور وہ بھلائی اور مسرت جو انھیں حاصل ہو گی۔ کوئی شخص ان کا وصف بیان نہیں کر سکتا اور ان تمام نعمتوں کا اتمام اور ان کی تکمیل یہ ہے کہ وہ ان عالی شان منازل میں ہمیشہ رہیں گے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ خٰؔلِدِیْنَفِیْهَاۤاَبَدًا١ؕوَعْدَاللّٰهِحَقًّا١ؕوَمَنْاَصْدَقُمِنَاللّٰهِقِیْلًا ﴾”اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، یہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور کون ہے جو اپنی بات میں اللہ سے بڑھ کر سچا ہے“ اللہ عظیم نے سچ فرمایا ہے، اس کا قول اور اس کی بات سچائی کے بلند ترین مرتبے پر پہنچی ہوئی ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام سچا ہے اور اس کی خبر سچی ہے، اس لیے اس کا کلام جس چیز پر دلالت کرتا ہے وہ بھی اس کے مطابق اور سچائی کو متضمن ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے کلام سے مراد ہے۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سچا ہے اور سچائی پر دلالت کرتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے خبر دیتے ہیں اور آپ صرف اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے سے ہی کلام کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {آمنوا} بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقَدَر خيرِه وشرِّه على الوجه الذي أمروا به علماً وتصديقاً وإقراراً. {وعملوا الصالحات}: الناشئة عن الإيمان، وهذا يشمل سائر المأمورات من واجبٍ ومستحبٍّ؛ الذي على القلب، والذي على اللسان، والذي على بقيَّة الجوارح؛ كل له من الثواب المرتَّب على ذلك بحسب حاله ومقامه وتكميله للإيمان والعمل الصالح، ويَفُوتُه ما رُتِّب على ذلك بحسب ما أخلَّ به من الإيمان والعمل، وذلك بحسب ما علم من حكمة الله ورحمته، وكذلك وعده الصادق الذي يُعرَف من تتبُّع كتاب الله وسنة رسوله، ولهذا ذكر الثواب المرتَّب على ذلك بقوله: {سَنُدْخِلُهم جناتٍ تجري من تحتها الأنهار}: فيها ما لا عينٌ رأت ولا أذنٌ سمعت ولا خطر على قلب بشر؛ من أنواع المآكل والمشارب اللذيذة، والمناظر العجيبة، والأزواج الحسنة، والقصور والغرف المزخرفة، والأشجار المتدلِّية، والفواكه المستغربة، والأصوات الشجيَّة، والنعم السابغة، وتزاور الإخوان وتذكُّرهم ما كان منهم في رياض الجنان، وأعلى من ذلك [كُلِّه] وأجلُّ؛ رضوان الله عليهم وتمتُّع الأرواح بقربه والعيون برؤيته والأسماع بخطابه الذي يُنسيهم كلَّ نعيم وسرور، ولولا الثباتُ من الله لهم؛ لطاروا وماتوا من الفرح والحبور؛ فلله ما أحلى ذلك النعيم! وما أعلى ما أنالهم الربُّ الكريم! وما حصل لهم من كل خير وبهجة لا يصفه الواصفون! وتمام ذلك وكماله الخلودُ الدائم في تلك المنازل العاليات.
ولهذا قال: {خالدين فيها أبداً وَعْدَ الله حقًّا ومن أصدق من الله قيلاً}: فصدق الله العظيم الذي بلغ قوله وحديثه في الصدق أعلى ما يكون، ولهذا لما كان كلامه صدقاً، وخبره صدقاً ؛ كان ما يدلُّ عليه مطابقةً وتضمناً وملازمةً؛ كل ذلك مرادٌ من كلامه، وكذلك كلام رسوله - صلى الله عليه وسلم -؛ لكونه لا يخبر إلاَّ بأمرِهِ ولا ينطق إلاَّ عن وحيه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔