تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 121

اُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ۫ وَ لَا یَجِدُوۡنَ عَنۡہَا مَحِیۡصًا ﴿۱۲۱﴾
یہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ اس سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔ En
ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور وہ وہاں سے مخلصی نہیں پاسکیں گے
En
یہ وه لوگ ہیں جن کی جگہ جہنم ہے، جہاں سے انہیں چھٹکارا نہ ملے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اُولٰٓىِٕكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ یعنی جس نے شیطان کی اطاعت کی اور اپنے رب سے روگردانی کی وہ شیطان کے پیروکاروں اور اس کے گروہ میں شامل ہو گیا، ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ﴿ وَلَا یَجِدُوْنَ عَنْهَا مَحِیْصًا اور وہاں سے بھاگنے اور گلوخلاصی کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔ بلکہ وہ جہنم میں ابد الآباد تک رہیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أولئك مأواهم جهنَّمُ}؛ أي: من انقاد للشيطانِ وأعرض عن ربِّه وصار من أتباع إبليس وحزبه مستقرهم النار، {ولا يجدون عنها محيصاً}؛ أي: مَخْلصاً ولا ملجأ، بل هم خالدون فيها أبد الآباد.