تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 68

وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَصَعِقَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰہُ ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیۡہِ اُخۡرٰی فَاِذَا ہُمۡ قِیَامٌ یَّنۡظُرُوۡنَ ﴿۶۸﴾
اور صور میں پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہوں گے، مر کر گر جائیں گے مگرجسے اللہ نے چاہا، پھر اس میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔ En
اور جب صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمان میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب بےہوش ہو کر گر پڑیں گے مگر وہ جس کو خدا چاہے۔ پھر دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو فوراً سب کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے
En
اور صور پھونک دیا جائے گا پس آسمانوں اور زمین والے سب بے ہوش ہوکر گر پڑیں گے مگر جسے اللہ چاہے، پھر دوباره صور پھونکا جائے گا پس وه ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی عظمت کا خوف دلانے کے بعد، قیامت کے احوال کے ذریعے سے انھیں ڈرایا اور انھیں ترغیب و ترہیب دی ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿وَنُ٘فِخَ فِی الصُّوْرِ اور صور میں پھونکا جائے گا۔ یہ بہت بڑا سینگ ہے جس کی عظمت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شخص نہیں جانتا یا صرف اس شخص کو علم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مطلع کر دیا ہو، اس صور میں اسرافیل علیہ السلام، جو اللہ تعالیٰ کے مقرب اور اس کا عرش اٹھانے والے فرشتوں میں سے ہیں، پھونک ماریں گے ﴿فَصَعِقَ تو بے ہوش ہو جائیں گے یا مر جائیں گے۔ اس بارے میں یہ دونوں قول منقول ہیں۔ ﴿مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔ یعنی زمین اور آسمانوں کی تمام مخلوق جب صور پھونکنے کی آواز سنے گی تو اس کی شدت، اور ان احوال کے بارے میں علم ہونے کے باعث گھبرا اٹھے گی، جن کا یہ آواز مقدمہ ہے۔ ﴿اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ مگر جسے اللہ (بچانا) چاہے۔ یعنی ان لوگوں کے سوا جن کو اللہ تعالیٰ مضبوط اور ثابت قدم رکھے، مثلاً: شہداء اور بعض دیگر لوگ، ان پر بے ہوشی طاری نہیں ہو گی۔ یہ پہلی پھونک نَفْخَۃُ الصَّعْق اور نَفْخَۃُ الْفَزَعْ ہے۔ ﴿ثُمَّ نُ٘فِخَ فِیْهِ پھر اس میں (ایک اور) پھونک ماری جائے گی۔ یہ نَفْخَۃُ الْبَعْث ہے ﴿فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُ٘رُوْنَ پس وہ فوراً اٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔ یعنی وہ حساب و کتاب کے لیے اپنی قبروں میں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، جبکہ ان کی تخلیقِ اجساد اور تخلیقِ ارواح مکمل ہوچکی ہو گی۔ ان کی آنکھیں اوپر کو اٹھی ہوئی ہوں گی، وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما خوَّفَهم تعالى من عظمتِهِ؛ خوَّفَهم بأحوال يوم القيامة، ورغَّبهم ورهَّبهم، فقال: {ونُفِخَ في الصُّورِ}: وهو قرنٌ عظيمٌ لا يَعْلَمُ عظمتَه إلاَّ خالقُه ومن أطلعهُ الله على علمِهِ من خلقِهِ، فينفُخُ فيه إسرافيلُ عليه السلام أحدُ الملائكة المقرَّبينَ وأحدُ حملةِ عرش الرحمن؛ {فَصَعِقَ}؛ أي: غُشِي أو ماتَ على اختلاف القولين، {مَن في السمواتِ ومَن في الأرض}؛ أي: كلُّهم، لمَّا سَمِعوا نفخةَ الصور؛ أزعجتْهم من شدَّتها وعِظَمِها، وما يعلمونَ أنَّها مقدِّمةٌ له، {إلاَّ مَن شاء الله}: ممن ثبَّته اللهُ عند النفخة، فلم يُصْعَقْ؛ كالشهداء أو بعضهم وغيرهم، وهذه النفخةُ الأولى نفخةُ الصَّعْقِ ونفخةُ الفزع، {ثم نُفِخَ فيه}: النفخة الثانية؛ نفخةُ البعثِ، {فإذا هم قيامٌ ينظرون}؛ أي: قد قاموا من قبورهم لبعثهم وحسابِهم ينظرون قد تمَّتْ منهم الخلقةُ الجسديَّة والأرواح، وشخصتْ أبصارُهم؛ {يَنْظُرونَ}: ماذا يفعلُ الله بهم؟