تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 67

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖ ٭ۖ وَ الۡاَرۡضُ جَمِیۡعًا قَبۡضَتُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطۡوِیّٰتٌۢ بِیَمِیۡنِہٖ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۶۷﴾
اور انھوںنے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق ہے، حالانکہ زمین ساری قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بنا رہے ہیں۔ En
اور انہوں نے خدا کی قدر شناسی جیسی کرنی چاہیئے تھی نہیں کی۔ اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے۔ (اور) وہ ان لوگوں کے شرک سے پاک اور عالی شان ہے
En
اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہئے تھی نہیں کی، ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے، وه پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان مشرکین نے اپنے رب کی قدر اور تعظیم نہیں کی جیسا کہ اس کی قدروتعظیم کا حق ہے بلکہ اس کے برعکس انھوں نے ایسے افعال سرانجام دیے جو اس کی تعظیم سے متناقض ہیں، مثلاً: ایسی ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا جو اپنے اوصاف و افعال میں ناقص ہیں۔ ان کے اوصاف ہر لحاظ سے ناقص ہیں، اور ان کے افعال ایسے ہیں کہ وہ کسی کو نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم، وہ کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔ پس انھوں نے اس ناقص مخلوق کو، خالق کائنات، رب عظیم کے برابر ٹھہرا دیا جس کی عظمت باہرہ اور قدرت قاہرہ یہ ہے کہ قیامت کے روز، تمام زمین رحمٰن کی مٹھی میں ہوگی اور ساتوں آسمان اپنی وسعتوں اور عظمتوں کے باوجود اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کی تعظیم نہیں کی جیسا کہ اس کی تعظیم کرنے کا حق ہے جس نے دوسری ہستیوں کو اس کے مساوی ٹھہرا دیا۔ جس نے یہ کام کیا اس سے بھی بڑھ کر کوئی ظالم ہے؟ ﴿سُبْحٰؔنَهٗ وَتَ٘عٰ٘لٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے منزہ، پاک اور بہت بلند ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: وما قَدَر هؤلاء المشركون ربَّهم {حقَّ قدرِهِ}: ولا عظَّموه حقَّ تعظيمِهِ، بل فعلوا ما يناقِضُ ذلك من إشراكِهِم به مَنْ هو ناقصٌ في أوصافِهِ وأفعالِهِ؛ فأوصافُهُ ناقصةٌ من كلِّ وجهٍ، وأفعالُهُ ليس عنده نفعٌ ولا ضرٌّ ولا عطاءٌ ولا منعٌ ولا يملِكُ من الأمر شيئاً، فسوَّوْا هذا المخلوقَ الناقصَ بالخالِق الربِّ العظيم، الذي من عظمتِهِ الباهرةِ وقدرتِهِ القاهرةِ أنَّ جميعَ الأرض يوم القيامةِ قبضةٌ للرحمن، وأنَّ السماواتِ على سَعَتِها وعظمها مطوياتٌ بيمينِهِ، فلا عَظَّمه حقَّ عظمته مَنْ سوَّى به غيرَه، ولا أظلمَ منه. {سبحانه وتعالى عما يشرِكونَ}؛ أي: تنزَّه، وتعاظم عن شركهم به.