تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 65

وَ لَقَدۡ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَئِنۡ اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۶۵﴾
اور بلا شبہ یقینا تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقینا تیرا عمل ضرور ضائع ہو جائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہو جائے گا۔ En
اور (اے محمدﷺ) تمہاری طرف اور ان (پیغمبروں) کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں یہی وحی بھیجی گئی ہے۔ کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے عمل برباد ہوجائیں گے اور تم زیاں کاروں میں ہوجاؤ گے
En
یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاںکاروں میں سے ہوجائے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنابریں فرمایا: ﴿وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَاِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ (اے نبی!) آپ کی طرف اور ان کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے وحی کی گئی۔ یعنی تمام انبیائے کرام کی طرف ﴿لَىِٕنْ اَشْرَؔكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ اگر تم نے شرک کیا تو تمھارے سارے عمل برباد ہوجائیں گے۔ یہ مفرد مضاف ہے جو تمام اعمال کو متضمن ہے۔
سابقہ جمیع انبیائے کرام کی نبوتوں میں یہ حکم تھا کہ شرک تمام اعمال کو ضائع کردیتا ہے جیسا کہ سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَلَوْ اَشْرَؔكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (الانعام: 6؍88) یہ ہے اللہ کی ہدایت، وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس طرح کی ہدایت دے اور اگر یہ لوگ (انبیائے کرام) شرک کرتے تو ان کا سارا کیا دھرا ضائع ہوجاتا۔ ﴿وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰؔسِرِیْنَ اور آپ (دین اور آخرت کے بارے میں) خسارے میں پڑ جاؤ گے۔ پس معلوم ہوا کہ شرک سے تمام اعمال اکارت ہو جاتے ہیں اور بندہ عذاب اور سزا کا مستحق بن جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {ولقد أوحي إليك وإلى الذين من قبلِكَ}: من جميع الأنبياء، {لَئِنْ أشركتَ لَيَحْبَطَنَّ عملُكَ}: هذا مفردٌ مضافٌ يعمُّ كلَّ عمل، ففي نبوة جميع الأنبياءِ أنَّ الشرك محبطٌ لجميع الأعمال؛ كما قال تعالى في سورة الأنعام لما عدَّد كثيراً من أنبيائِهِ ورسلِهِ؛ قال عنهم: {ذلك هدى اللهِ يَهْدي به مَن يشاءُ من عبادِهِ ولو أشْرَكوا لَحَبِطَ عنهم ما كانوا يعملونَ}، {ولَتكونَنَّ من الخاسرينَ}: دينَك وآخرتَك؛ فبالشركِ تُحْبَطُ الأعمال، ويُسْتَحَقُّ العقابُ والنَّكال.