تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 64

قُلۡ اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ تَاۡمُرُوۡٓنِّیۡۤ اَعۡبُدُ اَیُّہَا الۡجٰہِلُوۡنَ ﴿۶۴﴾
کہہ دے پھر کیا تم مجھے غیراللہ کے بارے میں حکم دیتے ہو کہ میں (ان کی) عبادت کروں اے جاہلو! En
کہہ دو کہ اے نادانو! تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ میں غیر خدا کی پرستش کرنے لگوں
En
آپ کہہ دیجئے اے جاہلو! کیا تم مجھ سے اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کو کہتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قُ٘لْ اے رسول! ان جہلاء سے، جو آپ کو غیراللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں، کہہ دیجیے: ﴿اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ اے جاہلو! کیا تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں۔ یہ معاملہ تمھاری جہالت کی بنا پر صادر ہوا ہے ورنہ اگر تمھیں اس بات کا علم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے کامل ہے وہی نعمتیں عطا کرتا ہے اور وہی عبادت کا مستحق ہے اور وہ ہستیاں عبادت کی مستحق نہیں جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں، جو نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، تب تم مجھے ان کی عبادت کا کیوں حکم دیتے ہو؟ شرک اعمال کو ساقط اور احوال کو فاسد کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل} يا أيُّها الرسولُ لهؤلاء الجاهلين الذين دَعَوْك إلى عبادةِ غير الله: {أفغيرَ الله تأمروني أعبدُ أيُّها الجاهلونَ}؛ أي: هذا الأمرُ صَدَرَ من جهلِكم، وإلاَّ؛ فلو كان لكم علمٌ بأنَّ الله تعالى الكاملَ من جميع الوجوه، مسدي جميع النعم هو المستحقُّ للعبادة دون مَنْ كان ناقصاً من كلِّ وجهٍ لا ينفعُ ولا يضرُّ؛ لم تأمروني بذلك، وذلك لأنَّ الشركَ بالله محبِطٌ للأعمال، مفسدٌ للأحوال.