تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قُ٘لْ ﴾ اے رسول! ان جہلاء سے، جو آپ کو غیراللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں، کہہ دیجیے: ﴿اَفَغَیْرَاللّٰهِتَاْمُرُوْٓنِّیْۤاَعْبُدُاَیُّهَاالْجٰهِلُوْنَ ﴾”اے جاہلو! کیا تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں۔“ یہ معاملہ تمھاری جہالت کی بنا پر صادر ہوا ہے ورنہ اگر تمھیں اس بات کا علم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے کامل ہے وہی نعمتیں عطا کرتا ہے اور وہی عبادت کا مستحق ہے اور وہ ہستیاں عبادت کی مستحق نہیں جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں، جو نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، تب تم مجھے ان کی عبادت کا کیوں حکم دیتے ہو؟ شرک اعمال کو ساقط اور احوال کو فاسد کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل} يا أيُّها الرسولُ لهؤلاء الجاهلين الذين دَعَوْك إلى عبادةِ غير الله: {أفغيرَ الله تأمروني أعبدُ أيُّها الجاهلونَ}؛ أي: هذا الأمرُ صَدَرَ من جهلِكم، وإلاَّ؛ فلو كان لكم علمٌ بأنَّ الله تعالى الكاملَ من جميع الوجوه، مسدي جميع النعم هو المستحقُّ للعبادة دون مَنْ كان ناقصاً من كلِّ وجهٍ لا ينفعُ ولا يضرُّ؛ لم تأمروني بذلك، وذلك لأنَّ الشركَ بالله محبِطٌ للأعمال، مفسدٌ للأحوال.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔