تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قُ٘لْ ﴾ آپ ان مشرکین سے کہہ دیجیے: ﴿لِّلّٰهِالشَّفَاعَةُجَمِیْعًا ﴾”سفارش تو سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔“ کیونکہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں۔ ہر سفارش کرنے والا اللہ سے ڈرتا ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس، اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کر سکے اور جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر رحم کرنا چاہتا ہے تو اچھے سفارشی کو اپنے ہاں سفارش کرنے کی اجازت عطا کر دیتا ہے۔ یہ اس کی طرف سے ان دونوں پر رحمت ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے متحقق فرمایا کہ شفاعت تمام تر اسی کا اختیار ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿لَهٗمُلْكُالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ ﴾”آسمانوں اور زمین کی حکومت اسی کے لیے ہے“ یعنی ان میں ذوات، افعال اور صفات جو کچھ بھی ہیں سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہیں، لہٰذا واجب ہے کہ سفارش اسی سے طلب کی جائے جو اس کا مالک ہے اور اسی کے لیے عبادات کو خالص کیا جائے ﴿ثُمَّاِلَیْهِتُرْجَعُوْنَ ﴾” پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“ اور وہ صاحب اخلاص کو ثواب جزیل عطا کرے گا اور جس نے شرک کیا اسے دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل}: لهم: {لله الشفاعةُ جميعاً}: لأنَّ الأمر كلَّه لله، وكلُّ شفيع؛ فهو يخافُه، ولا يقدِرُ أن يشفعَ عنده أحدٌ إلاَّ بإذنِهِ؛ فإذا أراد رحمةَ عبدِهِ؛ أذن للشفيع الكريم عندَه أن يشفعَ رحمةً بالاثنين. ثم قرَّرَ أنَّ الشفاعة كلَّها له بقوله: {له ملكُ السمواتِ والأرضِ}؛ أي: جميع ما [فيهما] من الذوات والأفعال والصفات؛ فالواجب أن تُطْلَبَ الشفاعةُ ممَّنْ يملِكُها وتُخْلَصَ له العبادةُ. {ثم إليه تُرْجَعونَ}: فيجازي المخلصَ له بالثواب الجزيل، ومَنْ أشرك به بالعذابِ الوبيل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔