تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر سخت نکیر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کو سفارشی بناتے ہیں، ہ ان کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں، ان سے مانگتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔ ﴿قُ٘لْ ﴾ ان کی جہالت اور ان کے خود ساختہ معبودوں کے عبادت کے مستحق نہ ہونے کو واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿اَوَلَوْكَانُوْا﴾”خواہ وہ۔“ یعنی جن کو تم نے اپنا سفارشی بنا رکھا ہے۔ ﴿لَایَمْلِكُوْنَشَیْـًٔؔا ﴾ زمین اور آسمان میں، چھوٹی یا بڑی، کسی ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہ ہوں، بلکہ ﴿وَلَایَعْقِلُوْنَ﴾ان میں عقل ہی نہیں کہ وہ مدح کے مستحق ہوں کیونکہ یہ جمادات، پتھر، درخت، بت یا مرے ہوئے لوگ ہیں۔ کیا اس شخص میں، جس نے ان کو اپنا معبود بنایا ہے، کوئی عقل ہے؟ یا وہ دنیا کا گمراہ ترین، جاہل ترین اور سب سے بڑا ظالم ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ينكر تعالى على مَنِ اتَّخذ من دونِهِ شفعاءَ يتعلَّق بهم ويسألُهم ويعبُدُهم، {قل} لهم مبيِّناً جهلَهم وأنَّها لا تستحقُّ شيئاً من العبادة: {أوَلَوْ كانوا}؛ أي: مَنِ اتَّخَذْتُم من الشفعاء {لا يملِكونَ شيئاً}؛ أي: لا مثقال ذرة في السماواتِ ولا في الأرضِ ولا أصغرَ من ذلك ولا أكبر، بل وليس لهم عقلٌ يستحقُّون أن يُمْدَحوا به؛ لأنَّها جماداتٌ من أحجارٍ وأشجارٍ وصورٍ وأمواتٍ؛ فهل يُقالُ: إنَّ لِمَنِ اتَّخذها عقلاً، أم هو من أضلِّ الناس وأجهلهم وأعظمهم ظلماً؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔