تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 20

لٰکِنِ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ لَہُمۡ غُرَفٌ مِّنۡ فَوۡقِہَا غُرَفٌ مَّبۡنِیَّۃٌ ۙ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۬ؕ وَعۡدَ اللّٰہِ ؕ لَا یُخۡلِفُ اللّٰہُ الۡمِیۡعَادَ ﴿۲۰﴾
لیکن وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈر گئے، ان کے لیے بالاخانے ہیں، جن کے اوپر خوب بنائے ہوئے بالاخانے ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہ رہی ہیں۔ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ En
لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے اونچے اونچے محل ہیں جن کے اوپر بالا خانے بنے ہوئے ہیں۔ (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ (یہ) خدا کا وعدہ ہے۔ خدا وعدے کے خلاف نہیں کرتا
En
ہاں وه لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے باﻻ خانے ہیں جن کے اوپر بھی بنے بنائے باﻻ خانے ہیں (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ رب کا وعده ہے اور وه وعده خلافی نہیں کرتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ہر قسم کی غنا اور فوزوفلاح صرف تقویٰ شعار لوگوں کے لیے ہے جن کے لیے اکرام و تکریم اور مختلف اقسام کی نعمتیں تیار کی گئی ہیں جن کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ ﴿لَهُمْ غُ٘رَفٌ یعنی ان کے لیے آراستہ کیے گئے بالاخانے ہیں جن کی خوبصورتی، حسن اور صفائی کی بنا پر ان کے اندر صاف دیکھا جاسکے گا اور وہ اپنی بلندی کی وجہ سے یوں نظر آئیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں غروب ہونے والا ستارہ۔ بنابریں فرمایا: ﴿مِّنْ فَوْقِهَا غُ٘رَفٌ یعنی یہ بالا خانے ایک دوسرے کے اوپر ﴿مَّبْنِیَّةٌ سونے چاند کی اینٹوں سے تعمیر کیے گئے ہوں گے جن کو آپس میں جوڑنے کے لیے مشک کا گارا بنایا گیا ہوگا۔ ﴿تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْ٘هٰرُ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ جن کا پانی نہایت تیزی سے رواں ہو گایہ نہریں جنت کے خوبصورت باغات اور اس کے پاکیزہ درختوں کو سیراب کریں گی جن سے نہایت لذید قسم کے پھل اور پکے ہوئے میوے پیدا ہوں گے۔ ﴿وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا اس نے پرہیز گار لوگوں سے اس ثواب کا وعدہ کر رکھا ہے۔ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا، لہٰذا انھیں چاہیے کہ وہ تقویٰ کے تمام خصائل کو پورا کریں تاکہ ان کو پورا پورا اجر عطا کیا جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لكنِ الغبنُ كلُ الغبن والفوزُ كلُّ الفوزِ للمتَّقين، الذين أعدَّ لهم من الكرامة وأنواع النعيم ما لا يُقادَرُ قَدْرُهُ، {لهم غُرَفٌ}؛ أي: منازل عاليةٌ مزخرفةٌ من حسنها وبهائها وصفائِها أنَّه يُرى ظاهرُها من باطنها وباطِنُها من ظاهرها، ومن علوِّها وارتفاعِها أنَّها تُرى كما يُرى الكوكبُ الغابرُ في الأفق الشرقيِّ أو الغربيِّ، ولهذا قال: {مِن فوقِها غرفٌ}؛ أي: بعضُها فوقَ بعضٍ {مبنيةٌ}: بذهب وفضة ومِلاطُها المسكُ الأذفر، {تجري من تحتها الأنهارُ}: المتدفقةُ المسقية للبساتين الزاهرة والأشجار الطاهرة، فتُغِلُّ أنواع الثمار اللذيذة والفاكهة النضيجة. {وَعْدَ اللهِ لا يُخْلِفُ الله الميعاد}: وقد وعد المتَّقين هذا الثواب؛ فلا بدَّ من الوفاء به؛ فَلْيوفوا بخصال التقوى؛ ليوفِّيَهُمْ أجورَهم.