تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 19

اَفَمَنۡ حَقَّ عَلَیۡہِ کَلِمَۃُ الۡعَذَابِ ؕ اَفَاَنۡتَ تُنۡقِذُ مَنۡ فِی النَّارِ ﴿ۚ۱۹﴾
تو کیا وہ شخص جس پر عذاب کی بات ثابت ہو چکی، پھر کیا تو اسے بچا لے گا جو آگ میں ہے۔ En
بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم صادر ہوچکا۔ تو کیا تم (ایسے) دوزخی کو مخلصی دے سکو گے؟
En
بھلا جس شخص پر عذاب کی بات ﺛابت ہو چکی ہے، تو کیا آپ اسے جو دوزخ میں ہے چھڑا سکتے ہیں؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی وہ شخص جس کے گمراہی، عناد اور کفر پر جمے رہنے کے باعث، اس پر عذاب کا حکم واجب ہو گیا، تو اس کی ہدایت کے لیے آپ کے پاس کوئی چارہ نہیں اور نہ ہی آپ اس شخص کو کسی صورت میں آگ سے بچا سکتے ہیں جو آگ میں گرچکا ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: أفمن وجبتْ عليه كلمةُ العذاب باستمرارِهِ على غَيِّهِ وعناده وكفرِهِ؛ فإنَّه لا حيلة لك في هدايته، ولا تقدِرُ تُنْقِذُ مَنْ في النار لا محالة.