تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 9

اَمۡ عِنۡدَہُمۡ خَزَآئِنُ رَحۡمَۃِ رَبِّکَ الۡعَزِیۡزِ الۡوَہَّابِ ۚ﴿۹﴾
کیا انھی کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں، جو سب پر غالب ہے، بہت عطا کر نے والا ہے۔ En
کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب اور بہت عطا کرنے والا ہے
En
یا کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىِٕنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْ٘عَزِیْزِ الْوَهَّابِ کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے: ﴿ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أم عِندَهُم خزائنُ رحمةِ ربِّك العزيز الوهَّاب}: فيعطون منها مَنْ شاؤوا ويمنعونَ منها مَن شاؤوا؛ حيث قالوا: {أأنزِلَ عليه الذِّكْرُ مِن بَيْنِنا}؛ أي: هذا فضلُه تعالى ورحمتُه، وليس ذلك بأيديهم حتى يتجرؤوا على الله.