تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 77

قَالَ فَاخۡرُجۡ مِنۡہَا فَاِنَّکَ رَجِیۡمٌ ﴿ۚۖ۷۷﴾
فرمایا پھر اس سے نکل جا، کیونکہ بلا شبہ تو مردود ہے۔ En
فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہے
En
ارشاد ہوا کہ تو یہاں سے نکل جا تو مردود ہوا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قَالَ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخْرُجْ مِنْهَا یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِیْمٌ بے شک تو مردود ہے یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اور تجھ پر میری لعنت ہے۔ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ قیامت کے دن تک ہے یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال الله له: اخرج {منها}؛ أي: من السماء والمحلِّ الكريم، {فإنَّك رجيمٌ}؛ أي: مبعد مدحور، {وإنَّ عليك لعنتي} أي: طردي وإبعادي {إلى يوم الدين}: دائماً أبداً.