تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخْرُجْمِنْهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَرَجِیْمٌ﴾”بے شک تو مردود ہے“ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّعَلَیْكَلَعْنَتِیْۤ ﴾”اور تجھ پر میری لعنت ہے۔“ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰىیَوْمِالدِّیْنِ﴾”قیامت کے دن تک ہے“ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال الله له: اخرج {منها}؛ أي: من السماء والمحلِّ الكريم، {فإنَّك رجيمٌ}؛ أي: مبعد مدحور، {وإنَّ عليك لعنتي} أي: طردي وإبعادي {إلى يوم الدين}: دائماً أبداً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔