تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 73

فَسَجَدَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴿ۙ۷۳﴾
پس تمام فرشتوں، سب کے سب نے سجدہ کیا۔ En
تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا
En
چنانچہ تمام فرشتوں نے سجده کیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب آدم علیہ السلام کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدم علیہ السلام کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدم علیہ السلام اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسْتَكْبَرَ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الْ٘كٰفِرِیْنَ اور وہ کافروں میں سے تھا۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فوطَّن الملائكةُ الكرامُ أنفسَهم على ذلك حين يتمُّ خلقُهُ ونفخُ الروح فيه امتثالاً لربِّهم وإكراماً لآدم عليه السلام، فلما تمَّ خلقُه في بدنِهِ وروحِهِ، وامتحنَ الله آدمَ والملائكةَ في العلم، وظهر فضلُه عليهم؛ أمرهم الله بالسجودِ، فسجدوا {كلُّهم أجمعون، إلاَّ إبليسَ}: لم يسجد، {استَكْبَرَ}: عن أمر ربِّه، واستكبر على آدم، {وكان من الكافرينَ}: في علم الله تعالى.