تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿هٰؔذَافَوْجٌمُّقْتَحِمٌمَّعَكُمْ ﴾”یہ ایک فوج ہے جو تمھارے ساتھ گھسی چلی آرہی ہے“ آگ میں ﴿لَامَرْحَبًۢابِهِمْ١ؕاِنَّهُمْصَالُواالنَّارِ ﴾”ان کے لیے کوئی خیرمقدم نہیں ہے یہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔“﴿قَالُوْا ﴾ وہ گھسے چلے آنے والے لوگ کہیں گے: ﴿بَلْاَنْتُمْ١۫لَامَرْحَبًۢابِكُمْ١ؕاَنْتُمْقَدَّمْتُمُوْهُ ﴾”بلکہ تم ہی ہو تمھارا خیر مقدم نہ ہو تم ہی تو لائے تھے اسے“ یعنی عذاب کو ﴿لَنَا ﴾”ہمارے پاس“ کیونکہ تم نے ہمیں دعوت دی، ہمیں فتنے میں مبتلا کر کے گمراہ کیا اور تم ہی ہمارے لیے اس عذاب کا سبب بنے ہو۔ ﴿فَ٘بِئْسَالْ٘قَرَارُ ﴾ اب ہم سب کے لیے یہ بدترین ٹھکانا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وعند توارُدِهِم على النار يشتُمُ بعضُهم بعضاً ويقول بعضُهم لبعضٍ: {هذا فوجٌ مقتحمٌ معكم}: النار {لا مرحباً بهم إنَّهم صالوا النار. قالوا}؛ أي: الفوج المقبِلُ المقتحم: {بل أنتُم لا مرحباً بكم أنتم قدَّمْتُموه}؛ أي: العذاب {لنا}: بدعوتِكُم لنا وفِتْنَتِكم وإضْلالِكُم وتسبُّبكم. {فبئس القرارُ}: قرار الجميع قرار السَّوْء والشرِّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔