تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 59

ہٰذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَکُمۡ ۚ لَا مَرۡحَبًۢا بِہِمۡ ؕ اِنَّہُمۡ صَالُوا النَّارِ ﴿۵۹﴾
یہ ایک گروہ ہے جو تمھارے ساتھ گھستا چلا آنے والا ہے، انھیں کوئی خوش آمدید نہیں، یقینا یہ آگ میں داخل ہونے والے ہیں۔ En
یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ داخل ہوگی۔ ان کو خوشی نہ ہو یہ دوزخ میں جانے والے ہیں
En
یہ ایک قوم ہے جو تمہارے ساتھ (آگ میں) جانے والی ہے، کوئی خوش آمدید ان کے لئے نہیں ہے یہی تو جہنم میں جانے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿هٰؔذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ یہ ایک فوج ہے جو تمھارے ساتھ گھسی چلی آرہی ہے آگ میں ﴿لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ ان کے لیے کوئی خیرمقدم نہیں ہے یہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔ ﴿قَالُوْا وہ گھسے چلے آنے والے لوگ کہیں گے: ﴿بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ بلکہ تم ہی ہو تمھارا خیر مقدم نہ ہو تم ہی تو لائے تھے اسے یعنی عذاب کو ﴿لَنَا ہمارے پاس کیونکہ تم نے ہمیں دعوت دی، ہمیں فتنے میں مبتلا کر کے گمراہ کیا اور تم ہی ہمارے لیے اس عذاب کا سبب بنے ہو۔ ﴿فَ٘بِئْسَ الْ٘قَرَارُ اب ہم سب کے لیے یہ بدترین ٹھکانا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وعند توارُدِهِم على النار يشتُمُ بعضُهم بعضاً ويقول بعضُهم لبعضٍ: {هذا فوجٌ مقتحمٌ معكم}: النار {لا مرحباً بهم إنَّهم صالوا النار. قالوا}؛ أي: الفوج المقبِلُ المقتحم: {بل أنتُم لا مرحباً بكم أنتم قدَّمْتُموه}؛ أي: العذاب {لنا}: بدعوتِكُم لنا وفِتْنَتِكم وإضْلالِكُم وتسبُّبكم. {فبئس القرارُ}: قرار الجميع قرار السَّوْء والشرِّ.