ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 59

ہٰذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَکُمۡ ۚ لَا مَرۡحَبًۢا بِہِمۡ ؕ اِنَّہُمۡ صَالُوا النَّارِ ﴿۵۹﴾
یہ ایک گروہ ہے جو تمھارے ساتھ گھستا چلا آنے والا ہے، انھیں کوئی خوش آمدید نہیں، یقینا یہ آگ میں داخل ہونے والے ہیں۔ En
یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ داخل ہوگی۔ ان کو خوشی نہ ہو یہ دوزخ میں جانے والے ہیں
En
یہ ایک قوم ہے جو تمہارے ساتھ (آگ میں) جانے والی ہے، کوئی خوش آمدید ان کے لئے نہیں ہے یہی تو جہنم میں جانے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 59) {هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ …:} ابن کثیر نے فرمایا، یہاں اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کی ایک دوسرے سے کی جانے والی باتوں کا ذکر فرمایا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا» ‏‏‏‏ [الأعراف: ۳۸] جب بھی کوئی جماعت داخل ہو گی اپنے ساتھ والی کو لعنت کرے گی۔ یعنی وہ سلام کے بجائے ایک دوسرے پر لعنت کریں گے اور ایک دوسرے کو جھوٹا اور کافر کہیں گے۔ چنانچہ وہ جماعت جو دوسری جماعت سے پہلے داخل ہو گی جب اس کے بعد والی جماعت جہنم کے دربان فرشتوں کے ساتھ داخل ہو گی تو پہلے والی جماعت فرشتوں سے کہے گی، یہ ایک گروہ ہے جو تمھارے ساتھ گھستا چلا آ رہا ہے، انھیں کوئی خوش آمدید نہیں، یقینا وہ آگ میں داخل ہونے والے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

59۔ 1 جہنم کے دروازوں پر کھڑے فرشتے ائمہء کفر اور پیشوایان ضلالت سے کہیں گے، جب پیروکار قسم کے کافر جہنم میں جائیں گے یا ائمہ کفر و ضلالت آپس میں یہ بات، پیروکاروں کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے۔ 59۔ 2 یہ لیڈر، جہنم میں داخل ہونے والے کافروں کے لئے، فرشتوں کے جواب میں یا آپس میں کہیں گے رَحْبَۃ کے معنی وسعت و فراخی کے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

59۔ (دیکھو) یہ ایک اور لشکر [59] (تمہارے پیروؤں کا) تمہارے ساتھ گھسا چلا آرہا ہے انہیں کوئی خوش آمدید نہیں یہ بھی دوزخ میں آرہے [60] ہیں
[59] یہاں ازواج کا لفظ ہم مثل چیزوں کے معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی اسی طرح کی اور بھی کئی گندی اور ناگوار چیزیں انہیں کھانا یا پینا پڑیں گی یا ایسی چیزوں سے انہیں عذاب دیا جائے گا۔
[60] اہل جہنم کا باہمی مکالمہ اور ایک دوسرے پر الزام:۔
یہ اہل دوزخ کے دوزخ میں داخل ہونے کے وقت کا ایک مکالمہ پیش کیا گیا ہے پہلا گروہ تو بڑے لوگوں اور سرداروں اور پیشواؤں کا ہو گا۔ انہیں فرشتے جہنم کے کنارے لا کھڑا کریں گے۔ پھر ان کے بعد ان کے پیروکاروں کی عظیم جماعت کو لایا جائے گا۔ سردار حضرات اس عظیم جماعت کو دیکھتے ہی کہنے لگیں گے۔ یہ ایک اور جماعت جہنم میں داخل ہونے کے لئے بیتابی سے آگے بڑھتی چلی آرہی ہے۔ ان پر اللہ کی مار اور پھٹکار یہ کہاں سے آگئے؟ جب پچھلی جماعت پہلوں کی یہ بات سنے گی تو وہ کہیں گے کہ اللہ کی مار اور پھٹکار تم پر ہو۔ تمہیں تو ہمارے پیشوا تھے اور یہاں جہنم میں لانے کا سبب بنے ہو۔ اور اب تم ہی ہم پر لعنت اور پھٹکار بھی کہہ رہے ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿هٰؔذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ یہ ایک فوج ہے جو تمھارے ساتھ گھسی چلی آرہی ہے آگ میں ﴿لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ ان کے لیے کوئی خیرمقدم نہیں ہے یہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔ ﴿قَالُوْا وہ گھسے چلے آنے والے لوگ کہیں گے: ﴿بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ بلکہ تم ہی ہو تمھارا خیر مقدم نہ ہو تم ہی تو لائے تھے اسے یعنی عذاب کو ﴿لَنَا ہمارے پاس کیونکہ تم نے ہمیں دعوت دی، ہمیں فتنے میں مبتلا کر کے گمراہ کیا اور تم ہی ہمارے لیے اس عذاب کا سبب بنے ہو۔ ﴿فَ٘بِئْسَ الْ٘قَرَارُ اب ہم سب کے لیے یہ بدترین ٹھکانا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وعند توارُدِهِم على النار يشتُمُ بعضُهم بعضاً ويقول بعضُهم لبعضٍ: {هذا فوجٌ مقتحمٌ معكم}: النار {لا مرحباً بهم إنَّهم صالوا النار. قالوا}؛ أي: الفوج المقبِلُ المقتحم: {بل أنتُم لا مرحباً بكم أنتم قدَّمْتُموه}؛ أي: العذاب {لنا}: بدعوتِكُم لنا وفِتْنَتِكم وإضْلالِكُم وتسبُّبكم. {فبئس القرارُ}: قرار الجميع قرار السَّوْء والشرِّ.