تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قَالَرَبِّاغْ٘فِرْلِیْوَهَبْلِیْمُلْ٘كًالَّایَنْۢبَغِیْلِاَحَدٍمِّنْۢبَعْدِیْ١ۚاِنَّكَاَنْتَالْوَهَّابُ ﴾”کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمان علیہ السلام سے کہا: ﴿هٰؔذَاعَطَآؤُنَا ﴾”یہ ہمارا عطیہ ہے“ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامْنُ٘نْ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوْاَمْسِكْ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَیْرِحِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمان علیہ السلام کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فَـ {قَالَ ربِّ اغْفِرْ لي وَهَبْ لي مُلْكاً لا ينبغي لأحدٍ من بعدي إنَّك أنت الوهابُ}: فاستجاب الله له، وغفر له، وردَّ عليه مُلْكَه، وزادَه ملكاً لم يحصُلْ لأحدٍ من بعده، وهو تسخيرُ الشياطين له يبنونَ ما يريدُ ويغوصون له في البحر يستخرِجون الدُّرَّ والحُلِيَّ، ومَنْ عصاه منهم؛ قَرَّنَه في الأصفاد وأوثقه، وقلنا له: {هذا عطاؤنا}: فَقُرَّ به عيناً، {فامنُنْ}: على من شئتَ، {أو أمْسِكْ}: مَنْ شئتَ {بغير حسابٍ}؛ أي: لا حرج عليك في ذلك ولا حسابَ؛ لعلمه تعالى بكمال عدلِهِ وحسن أحكامِهِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔