تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 34

وَ لَقَدۡ فَتَنَّا سُلَیۡمٰنَ وَ اَلۡقَیۡنَا عَلٰی کُرۡسِیِّہٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ ﴿۳۴﴾
اور بلا شبہ یقینا ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور اس کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، پھر اس نے رجوع کیا۔ En
اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا
En
اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک جسم ڈال دیا پھر اس نے رجوع کیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَ٘یْمٰنَ یعنی ہم نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمان علیہ السلام کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی) ﴿ثُمَّ اَنَابَ پھر سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولقد فتنَّا سليمانَ}؛ أي: ابتليْناه واختبرْناه بذَهابِ ملكِهِ وانفصالِهِ عنه بسبب خلل اقتضتْه الطبيعةُ البشريةُ، {وألقَيْنا على كرسيِّه جسداً}؛ أي: شيطاناً قضى الله وقَدَّر أن يجلسَ على كرسيِّ ملكِهِ ويتصرَّفَ في الملك في مدَّةِ فتنة سليمان، {ثم أنابَ}: سليمانُ إلى الله تعالى، وتابَ.