تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 31

اِذۡ عُرِضَ عَلَیۡہِ بِالۡعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الۡجِیَادُ ﴿ۙ۳۱﴾
جب اس کے سامنے دن کے پچھلے پہر اصیل تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے ۔ En
جب ان کے سامنے شام کو خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے
En
جب ان کے سامنے شام کے وقت تیز رو خاصے گھوڑے پیش کیے گئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔
سلیمان علیہ السلام نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے خیر کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ خیر کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔ سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: ﴿رُدُّوْهَا عَلَیَّ ان کو میرے پاس واپس لاؤ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ تو سلیمان علیہ السلام نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا؛ لما عُرِضَتِ [عليه] الخيل الجياد السبق {الصافناتُ}؛ أي: التي من وصفها الصُّفونُ، وهو رفع إحدى قوائِمِها عند الوقوف، وكان لها منظرٌ رائقٌ وجمالٌ معجبٌ، خصوصاً للمحتاج إليها؛ كالملوك؛ فما زالتْ تُعْرَضُ عليه حتى غابتِ الشمس في الحجاب، فألهتْه عن صلاة المساءِ وذِكْرِهِ، فقال ندماً على ما مضى منه، وتقرُّباً إلى الله بما ألهاه عن ذكرِهِ، وتقديماً لحبِّ الله على حبِّ غيره: {إنِّي أحببتُ حُبَّ الخيرِ}: وضمَّنَ أحببتُ معنى آثرتُ؛ أي: آثرتُ حبَّ الخير الذي هو المالُ عموماً وفي الموضع المرادُ الخيل {عن ذِكْرِ ربِّي حتى تَوارَتْ بالحجابِ. ردُّوها عليَّ}: فردُّوها، {فطَفِقَ}: فيها {مسحاً بالسُّوقِ والأعناقِ}؛ أي: جعل يعقِرُها بسيفِهِ في سوقِها وأعناقها.