تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ د علیہ السلام کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمان علیہ السلام کی مدح و ثنا بیان کی، چنانچہ فرمایا: ﴿وَوَهَبْنَالِدَاوٗدَسُلَ٘یْمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ د علیہ السلام کو سلیمان علیہ السلام عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعْمَالْعَبْدُ ﴾”سلیمان علیہ السلام بہترین بندے تھے“ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤاَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما أثنى الله تعالى على داودَ وذَكَرَ ما جرى له ومنه؛ أثنى على ابنِهِ سليمانَ عليهما السلام، فقال: {ووَهَبْنا لداودَ سليمانَ}؛ أي: أنْعَمْنا به عليه وأقررْنا به عينَه. {نعم العبدُ}: سليمانُ عليه السلام، فإنَّه اتَّصف بما يوجب المدح، وهو {إنَّه أوابٌ}؛ أي: رجاعٌ إلى الله في جميع أحوالِهِ بالتألُّه والإنابة والمحبَّة والذِّكر والدُّعاء والتضرُّع والاجتهاد في مرضاة الله وتقديمها على كل شيءٍ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔