تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 26

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰکَ خَلِیۡفَۃً فِی الۡاَرۡضِ فَاحۡکُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الۡہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا یَوۡمَ الۡحِسَابِ ﴿٪۲۶﴾
اے داؤد! بے شک ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، سو تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر اور خواہش کی پیروی نہ کر، ورنہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔ یقینا وہ لوگ جو اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں، ان کے لیے سخت عذاب ہے، اس لیے کہ وہ حساب کے دن کو بھول گئے۔ En
اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں بادشاہ بنایا ہے تو لوگوں میں انصاف کے فیصلے کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے رستے سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ خدا کے رستے سے بھٹکتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب (تیار) ہے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا
En
اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو ورنہ وه تمہیں اللہ کی راه سے بھٹکا دے گی، یقیناً جو لوگ اللہ کی راه سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اس لئے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ اے داود! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا۔ تاکہ آپ دنیا میں دینی اور دنیاوی احکام نافذ کر سکیں۔ ﴿فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیجیے یعنی عدل وانصاف کے ساتھ۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ واجب کا علم اور واقع کا علم نہ ہو اور حق کو نافذ کرنے کی قدرت نہ ہو۔
﴿وَلَا تَ٘تَّ٘بِـعِ الْهَوٰى اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے ایسا نہ ہو کہ آپ کا دل کسی کی طرف اس کی قرابت، دوستی یا محبت یا فریق مخالف سے ناراضی کے باعث مائل ہو جائے ﴿فَیُضِلَّكَ پس وہ (خواہش نفس) آپ کو گمراہ کر دے ﴿عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اللہ کی راہ سے اور آپ کو صراط مستقیم سے دور کر دے۔ ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں خاص طور پر وہ لوگ جو دانستہ طور پر اس کاارتکاب کرتے ہیں۔ ﴿لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ ان کے لیے یوم جزا سے غافل رہنے کی وجہ سے سخت عذاب ہے۔ اگر وہ اسے یاد رکھتے اور ان کے دل میں اس کا خوف ہوتا تو فتنے میں مبتلا کرنے والی خواہشات نفس کبھی بھی انھیں ظلم اور ناانصافی کی طرف مائل نہ کر سکتیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يا داود إنَّا جَعَلْناكَ خليفةً في الأرض}: تنفِّذُ فيها القضايا الدينيَّةَ والدنيويَّةَ، {فاحْكُم بين الناسِ بالحقِّ}؛ أي: العدل، وهذا لا يتمكَّن منه إلا بعلم بالواجب وعلم بالواقع وقدرةٍ على تنفيذ الحقِّ، {ولا تَتَّبِع الهوى}: فتميل مع أحدٍ لقرابةٍ أو صداقةٍ أو محبةٍ أو بغضٍ للآخر، {فيضلَّك}: الهوى {عن سبيل الله}: ويخرِجَك عن الصراط المستقيم. {إنَّ الذين يَضِلُّون عن سبيل الله}: خصوصاً المتعمِّدين منهم {لهم عذابٌ شديدٌ بما نسوا يومَ الحسابِ}؛ فلو ذَكَروه ووقع خوفُهُ في قلوبِهِم؛ لم يَميلوا مع الهوى الفاتن.