تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 25

فَغَفَرۡنَا لَہٗ ذٰلِکَ ؕ وَ اِنَّ لَہٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰی وَ حُسۡنَ مَاٰبٍ ﴿۲۵﴾
تو ہم نے اسے یہ بخش دیا اور بلاشبہ اس کے لیے ہمارے پاس یقینا بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے۔ En
تو ہم نے ان کو بخش دیا۔ اور بےشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے
En
پس ہم نے بھی ان کا وه (قصور) معاف کر دیا، یقیناً وه ہمارے نزدیک بڑے مرتبہ والے اور بہت اچھے ٹھکانے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَ٘غَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ پس ہم نے معاف کردی یہ لغزش جو آپ سے صادر ہوئی تھی اور مختلف انواع کی کرامات کے ذریعے سے آپ کو اکرام سے سرفراز کیا، فرمایا: ﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْ٘فٰى اور بلاشبہ ہمارے ہاں اس کے لیے خاص مرتبہ ہے یعنی بہت بلند مرتبہ، ہمارا قرب ﴿وَحُسْنَ مَاٰبٍ اور اچھا انجام ہے
حضرت داؤ د علیہ السلام سے جو لغزش سرزد ہوئی، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اس کی کوئی حاجت نہیں اس لیے اس بارے میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو واقعہ بیان فرمایا ہے صرف اسی میں فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے لطف و کرم سے نوازا، آپ کی توبہ اور انابت کو قبول کیا، آپ کا مرتبہ بلند ہوا، لہٰذا توبہ کے بعد آپ کو پہلے سے بہتر مرتبہ حاصل ہوا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فغفرنا له ذلك}: الذي صَدَرَ منه، وأكرمه الله بأنواع الكراماتِ، فقال: {وإنَّ له عندَنا لَزُلْفى}؛ أي: منزلة عالية وقربة منَّا، {وحسنَ مآبٍ}؛ أي: مرجع. وهذا الذنبُ الذي صَدَرَ من داود عليه السلام لم يَذْكُرْهُ الله لعدم الحاجةِ إلى ذكرِهِ؛ فالتعرُّضُ له من باب التكلُّف، وإنَّما الفائدةُ ما قصَّه الله علينا من لطفِهِ به وتوبتِهِ وإنابتِهِ وأنَّه ارتفع محلُّه فكان بعد التوبةِ أحسنَ منه قبلَها.