تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 17

اِصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ اذۡکُرۡ عَبۡدَنَا دَاوٗدَ ذَا الۡاَیۡدِ ۚ اِنَّہٗۤ اَوَّابٌ ﴿۱۷﴾
اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کر، جو قوت والا تھا ،یقینا وہ بہت رجوع کر نے والا تھا۔ En
(اے پیغمبر) یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو۔ اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو صاحب قوت تھے (اور) بےشک وہ رجوع کرنے والے تھے
En
آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو یاد کریں جو بڑی قوت واﻻ تھا، یقیناً وه بہت رجوع کرنے واﻻ تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے۔ جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین نے صبر کیا۔ ان کی باتیں حق کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں نہ آپ کو۔ وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے آپ کو تلقین فرمائی کہ آپ اللہ وحدہ کی عبادت اور اس کے عبادت گزار بندوں کے احوال کو یاد کر کے صبر پر مدد لیں، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا: ﴿فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّ٘مْسِ وَقَبْلَ غُ٘رُوْبِهَا (طٰہٰ:20؍130) (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) جو یہ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے، اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے۔ سب سے بڑے عبادت گزار انبیاء میں سے اللہ کے نبی حضرت داؤ د علیہ السلام ہیں وہ ﴿ذَا الْاَیْدِ صاحب قوت تھے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے اپنے قلب و بدن میں عظیم طاقت رکھتے تھے ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ یعنی وہ تمام امور میں انابت، محبت، تعبد، خوف، امید، کثرتِ گریہ زاری اور کثرتِ دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے تھے۔ اگر عبادت میں کوئی خلل واقع ہو جاتا، تو اس خلل کو دور کر کے سچی توبہ کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال لرسوله: {اصْبِرْ على ما يَقولونَ}: كما صبر مَنْ قَبْلَكَ من الرُّسل؛ فإنَّ قولَهم لا يضرُّ الحقَّ شيئاً، ولا يضرُّونك في شيءٍ، وإنَّما يضرُّون أنفسَهم.

لمَّا أمر الله رسولَه بالصبر على قومه؛ أمَرَه أن يستعينَ على الصبر بالعبادةِ لله وحدَه، ويتذكَّرَ حال العابدين؛ كما قال في الآية الأخرى: {فاصْبِرْ على ما يَقولونَ وسَبِّحْ بِحَمْدِ ربِّكَ قبلَ طُلوع الشمسِ وقبلَ غُروبها}. ومن أعظم العابدين نبيُّ الله داود عليه الصلاة والسلام، ذو {الأيْدِ}؛ أي: القوة العظيمة على عبادةِ الله تعالى في بدنِهِ وقلبِهِ. {إنَّه أوَّابٌ}؛ أي: رجاعٌ إلى الله في جميع الأمور بالإنابة إليه بالحبِّ والتألُّه والخوف والرجا وكثرَةِ التضرُّع والدُّعاء، رجاعٌ إليه عندما يقعُ منه بعض الخلل بالإقلاع والتوبة النَّصوح.