تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ جھٹلانے والے اپنی جہالت اور حق کے ساتھ عناد کی بنا پر عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿رَبَّنَاعَجِّلْلَّنَاقِطَّنَا ﴾ یعنی ہمارے حصے کا عذاب ہمیں جلدی دے دے ﴿قَبْلَیَوْمِالْحِسَابِ ﴾”حساب کے دن سے پہلے۔“ وہ اپنے اس قول سے باز نہیں آتے۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کفار سمجھتے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی سچائی کی علامت یہ ہے کہ آپ ان پر عذاب لے آئیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قال هؤلاءِ المكذِّبون من جَهْلِهِم ومعانَدَتِهِم الحقَّ مستعجلين للعذاب: {ربَّنا عَجِّلْ لنا قِطَّنا}؛ أي: قِسْطَنا وما قسم لنا من العذابِ عاجلاً {قبلَ يوم الحسابِ}: ولجُّوا في هذا القول، وزعموا أنَّك يا محمدُ إن كنتَ صادقاً؛ فعلامةُ صدقِكَ أن تأتينا بالعذاب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔