تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 16

وَ قَالُوۡا رَبَّنَا عَجِّلۡ لَّنَا قِطَّنَا قَبۡلَ یَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴿۱۶﴾
اور انھوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمیں ہمارا حصہ یوم حساب سے پہلے جلدی دے دے۔ En
اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دے دے
En
اور انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب! ہماری سرنوشت تو ہمیں روز حساب سے پہلے ہی دے دے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ جھٹلانے والے اپنی جہالت اور حق کے ساتھ عناد کی بنا پر عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا یعنی ہمارے حصے کا عذاب ہمیں جلدی دے دے ﴿قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ حساب کے دن سے پہلے۔ وہ اپنے اس قول سے باز نہیں آتے۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کفار سمجھتے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی سچائی کی علامت یہ ہے کہ آپ ان پر عذاب لے آئیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: قال هؤلاءِ المكذِّبون من جَهْلِهِم ومعانَدَتِهِم الحقَّ مستعجلين للعذاب: {ربَّنا عَجِّلْ لنا قِطَّنا}؛ أي: قِسْطَنا وما قسم لنا من العذابِ عاجلاً {قبلَ يوم الحسابِ}: ولجُّوا في هذا القول، وزعموا أنَّك يا محمدُ إن كنتَ صادقاً؛ فعلامةُ صدقِكَ أن تأتينا بالعذاب.