تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 97

قَالُوا ابۡنُوۡا لَہٗ بُنۡیَانًا فَاَلۡقُوۡہُ فِی الۡجَحِیۡمِ ﴿۹۷﴾
انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ، پھر اسے بھڑکتی آگ میں پھینک دو۔ En
وہ کہنے لگے کہ اس کے لئے ایک عمارت بناؤ پھر اس کو آگ کے ڈھیر میں ڈال دو
En
وه کہنے لگے اس کے لئے ایک مکان بناؤ اور اس (دہکتی ہوئی) آگ میں اسے ڈال دو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ۔ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلْقُوْهُ فِی الْؔجَحِیْمِ اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا انھوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْ٘نَ تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالوا ابنوا له بنياناً}؛ أي: عالياً مرتفعاً وأوقِدوا فيه النارَ، {فألقوه في الجحيم}: جزاءً على ما فعل من تكسير آلهتهم، وأرادوا {به كيداً}: ليقتُلوه أشنعَ قِتْلَةٍ؛ {فجعلناهُمُ الأسفلينَ}: ردَّ الله كيدَهم في نُحورهم، وجَعَلَ النار على إبراهيم برداً وسلاماً.