(آیت 97) {قَالُواابْنُوْالَهٗبُنْيَانًا …: ”بُنْيَانًا“} کی تنوین تعظیم کی ہے۔ {”الْجَحِيْمِ“} خوب بھڑکائی ہوئی آگ، یہ {”حَجَمَفُلَانٌالنَّارَ“ } (ف) (فلاں نے آگ خوب بھڑکائی) سے مشتق ہے۔ دلیل میں لاجواب ہونے پر انھوں نے فیصلہ کیا کہ ابراہیم(علیہ السلام) کے لیے ایک بڑی عمارت بناؤ، اسے ایندھن سے بھر کر آگ لگاؤ اور جب وہ خوب بھڑک اٹھے تو ابراہیم(علیہ السلام) کو اس میں پھینک دو۔ اس چار دیواری یا عمارت کا بلند اور بڑا ہونا تو {”بُنْيَانًا“} کے لفظ اور اس کی تنوین سے ظاہر ہو رہا ہے، مگر اس کی پیمائش کسی معتبر ذریعے سے ہم تک نہیں پہنچی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
97۔ وہ کہنے لگے: اس کے لئے ایک الاؤ تیار کرو اور اسے آگ میں پھینک دو
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قَالُواابْنُوْالَهٗبُنْیَانًا﴾”تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ۔“ یعنی اس کے لیے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ ﴿فَاَلْقُوْهُفِیالْؔجَحِیْمِ ﴾”اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو“ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ ﴿فَاَرَادُوْابِهٖكَیْدًا ﴾ انھوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بدترین طریقے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ﴿فَجَعَلْنٰهُمُالْاَسْفَلِیْ٘نَ ﴾”تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قالوا ابنوا له بنياناً}؛ أي: عالياً مرتفعاً وأوقِدوا فيه النارَ، {فألقوه في الجحيم}: جزاءً على ما فعل من تكسير آلهتهم، وأرادوا {به كيداً}: ليقتُلوه أشنعَ قِتْلَةٍ؛ {فجعلناهُمُ الأسفلينَ}: ردَّ الله كيدَهم في نُحورهم، وجَعَلَ النار على إبراهيم برداً وسلاماً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔